گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے آگے، حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ کا مرحلہ شروع

غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سرفہرست، مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں جیت سکی، آزاد امیدوار کنگ میکر بننے کے قریب

گلگت (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ حکومت سازی کیلئے آزاد امیدواروں کی اہمیت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے جبکہ Nawaz Sharif کی جماعت Pakistan Muslim League (N) 3 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔

دوسری جانب Pakistan Tehreek-e-Insaf کے حمایت یافتہ امیدوار صرف ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ پانچ حلقوں میں آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق حکومت سازی کیلئے 24 رکنی اسمبلی میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔

نتائج کے مطابق حلقہ جی بی اے ون گلگت ون میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین نے کامیابی حاصل کی جبکہ نگر، اسکردو، شگر، غذر اور دیگر اہم علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے دکھائی دیے۔

حلقہ جی بی اے 3 گلگت میں آزاد امیدوار سید سہیل عباس کامیاب قرار پائے جبکہ ہنزہ، غذر اور گھانچے کے مختلف حلقوں میں بھی آزاد امیدواروں نے غیر متوقع کامیابیاں حاصل کرکے سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا۔

ادھر مسلم لیگ (ن) نے استور، غذر اور گھانچے کے بعض حلقوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھی ہے۔

حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 میں مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم نے سخت مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی، جو انتخابی نتائج کی ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد امیدواروں کی تعداد اور چند حلقوں کے غیر مکمل نتائج کے باعث حکومت سازی کا مرحلہ انتہائی دلچسپ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے آزاد امیدواروں یا دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

گلگت بلتستان بھر میں انتخابات کیلئے 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد تھی۔

انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہوا۔

سیاسی حلقوں میں اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں کس سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرتی ہیں اور آئندہ حکومت کی تشکیل میں کس کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ابتدائی نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست میں آزاد امیدواروں کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے لیکن حکومت سازی کیلئے اسے مزید سیاسی حمایت درکار ہوگی۔

عوامی ردعمل

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں نتائج کے اعلان کے بعد کارکنوں کی جانب سے جشن منانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی انتخابی نتائج پر بھرپور تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ آزاد امیدواروں کی کامیابی کو کئی صارفین نے انتخابی سیاست کا بڑا سرپرائز قرار دیا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سیاسی ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز گلگت بلتستان کی سیاست کیلئے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ اتحادی مذاکرات اور آزاد امیدواروں کی حمایت حکومت سازی کا رخ متعین کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہی۔

گلگت بلتستان کے عوام نے ایک بار پھر جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے خطے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔

میری رائے میں ان انتخابات کا سب سے دلچسپ پہلو آزاد امیدواروں کی مضبوط پوزیشن ہے۔ آنے والے دنوں میں یہی امیدوار حکومت سازی کی چابی ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کے فیصلے گلگت بلتستان کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین