زیادہ اسکرین ٹائم آنکھوں کے لیے کتنا نقصان دہ؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

ماہرین نے 20-20-20 اصول اپنانے کا مشورہ دے دیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ دفتر، تعلیمی اداروں، گھروں اور حتیٰ کہ خریداری کے دوران بھی اسکرین کا استعمال معمول بن گیا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنا آنکھوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کا خشک ہونا، پانی آنا، دھندلا دکھائی دینا، سر درد، آنکھوں کی تھکن، چکر آنا اور بعض افراد میں عدم توازن محسوس ہونا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم کے باعث نظر کمزور (مایوپیا) ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

تاہم امریکن اکیڈمی آف اوفتھالمولوجی کے مطابق اب تک ایسی کوئی مضبوط سائنسی شہادت موجود نہیں کہ ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی بلو لائٹ آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

امریکن آپٹومیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور ماہرِ چشم ڈاکٹر اسٹیون ریڈ کے مطابق اصل مسئلہ آنکھوں کی وہ عضلات ہیں جو مسلسل قریب کی چیز پر فوکس رکھنے کے باعث تناؤ کا شکار رہتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ہلکا وزن کئی گھنٹے تک سر کے اوپر اٹھائے رکھے۔ وزن زیادہ نہ ہونے کے باوجود مسلسل دباؤ جسم کو تھکا دیتا ہے۔ اسی طرح آنکھوں کے پٹھوں پر مسلسل دباؤ سر درد، دھندلے پن اور آنکھوں کی تھکن کا باعث بنتا ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ علامات بار بار سامنے آئیں تو آنکھوں کا معائنہ کرانا چاہیے اور اسکرین کے استعمال کے دوران باقاعدگی سے وقفے لینے چاہییں۔

آنکھوں کی حفاظت کے لیے اہم احتیاطی تدابیر

20-20-20 اصول اپنائیں

ماہرین آنکھوں کو آرام دینے کے لیے 20-20-20 رول اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس اصول کے مطابق:

  • ہر 20 منٹ بعد اسکرین سے نظریں ہٹا لیں۔
  • تقریباً 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو دیکھیں۔
  • کم از کم 20 سیکنڈ تک اسی چیز پر نظر رکھیں۔

امریکن اکیڈمی آف اوفتھالمولوجی کے ترجمان ڈاکٹر راج ماتوری کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اسکرین کی وجہ سے ہونے والی آنکھوں کی تھکن عموماً عارضی ہوتی ہے اور مناسب وقفے لینے سے اس میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے مصنوعی آنسو (Artificial Tears) بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

زیادہ پلکیں جھپکائیں

ماہرین کے مطابق عام حالات میں انسان ایک منٹ میں تقریباً 18 سے 22 مرتبہ پلک جھپکتا ہے، جس سے آنکھیں قدرتی طور پر نم رہتی ہیں۔

لیکن اسکرین استعمال کرتے وقت یہ تعداد کم ہو کر صرف 3 سے 7 مرتبہ فی منٹ رہ جاتی ہے، جس سے آنکھیں خشک ہونے لگتی ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ورک اسپیس کو بہتر بنائیں

آنکھوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے ماہرین یہ مشورے بھی دیتے ہیں:

  • ممکن ہو تو بڑی اسکرین استعمال کریں۔
  • فون یا کمپیوٹر کا فونٹ سائز بڑا رکھیں۔
  • اسکرین سے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر بیٹھیں۔
  • اسکرین کو آنکھوں کی سطح سے تھوڑا نیچے رکھیں تاکہ گردن اور آنکھوں پر دباؤ کم ہو۔

سونے سے پہلے اسکرین سے گریز کریں

ماہرین کے مطابق رات کے وقت ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی بلو لائٹ دماغ کو زیادہ متحرک رکھ سکتی ہے، جس سے نیند آنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ سونے سے ایک سے دو گھنٹے پہلے موبائل، ٹیبلیٹ اور دیگر اسکرینوں کا استعمال بند کر دیں، اسکرین کی روشنی کم رکھیں اور ویڈیوز دیکھنے کے بجائے آڈیو بکس یا پوڈکاسٹس سننے کی عادت اپنائیں۔

بچوں کے لیے خصوصی ہدایات

چلڈرنز ہاسپٹل آف فلاڈیلفیا سے وابستہ ماہرِ چشم ڈاکٹر عائشہ ملک کے مطابق بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم اور مسلسل قریب کی چیزوں کو دیکھنے سے نظر کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچے ایک وقت میں مسلسل 20 منٹ سے زیادہ اسکرین استعمال نہ کریں اور درمیان میں لازمی وقفہ کریں، کیونکہ آج کل بچوں کا اسکرین ٹائم اسکول اور گھر دونوں جگہ بڑھ چکا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال صحت، خصوصاً آنکھوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معمولی احتیاطی تدابیر، باقاعدہ وقفے اور درست عادات اپنا کر ان مسائل سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اعتراف کیا کہ وہ روزانہ کئی گھنٹے موبائل اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں اور آنکھوں کی تھکن یا سر درد کا سامنا کرتے ہیں۔ بیشتر افراد نے 20-20-20 اصول کو مفید قرار دیا۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ چشم کے مطابق ڈیجیٹل آلات سے مکمل اجتناب ممکن نہیں، تاہم متوازن استعمال، مناسب فاصلہ، وقفے، پلکیں زیادہ جھپکانا اور باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ صحت مند بینائی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنا کر آنکھوں کی تھکن اور دیگر مسائل سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

میری رائے میں اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کا استعمال آج کی ضرورت ہے، مگر ان کا غیر ضروری اور طویل استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہم روزمرہ معمول میں وقفے، مناسب روشنی اور متوازن اسکرین ٹائم کو شامل کر لیں تو اپنی آنکھوں کی صحت کو بہتر انداز میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین