ٹوکیو (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے پیشِ نظر جاپان نے ایک منفرد اور جدید کولنگ سسٹم متعارف کرایا ہے، جو چند ہی منٹ میں انسانی جسم کو مؤثر انداز میں ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید ایجاد کو "ہیومن فریج” (Human Fridge) کا نام دیا گیا ہے۔
جاپانی کمپنی نے ایک صنعتی آلات تیار کرنے والی کارپوریشن کے اشتراک سے یہ جدید کولنگ یونٹ تیار کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد شدید گرمی کے دوران ہیٹ ایگزاسشن (Heat Exhaustion) اور جسمانی تھکن کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس یونٹ میں طاقتور ٹھنڈی ہوا کے ذریعے پورے جسم کو تیزی سے ٹھنڈک پہنچائی جاتی ہے، جس سے صرف 10 منٹ کے اندر جسم کے درجۂ حرارت میں واضح کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔
تقریباً سات فٹ بلند اور 3.9 فٹ چوڑا یہ یونٹ ظاہری شکل میں کسی وینڈنگ مشین یا ریفریجریٹر سے مشابہت رکھتا ہے۔ صارف اس کے اندر کھڑا ہو کر چند منٹ میں شدید گرمی سے فوری ریلیف حاصل کر سکتا ہے۔
اس جدید نظام میں اندرونی درجۂ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ کی ٹھنڈی ہوا براہِ راست سر، گردن، کندھوں اور کمر پر ڈالی جاتی ہے تاکہ جسم کو کم سے کم وقت میں مؤثر انداز میں ٹھنڈک فراہم کی جا سکے۔
صارف کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس یونٹ میں خودکار حفاظتی نظام بھی نصب کیا گیا ہے، جو 20 منٹ مکمل ہونے کے بعد مشین کو خود بخود بند کر دیتا ہے تاکہ جسم ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا نہ ہو جائے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ہیومن فریج دنیا کا اپنی نوعیت کا پہلا کولنگ سسٹم ہے جو بیک وقت پورے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے جسمانی حرارت کم کرتا ہے۔
اس ایجاد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی کم توانائی کھپت ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے چلانے پر تقریباً 16 جاپانی ین فی گھنٹہ خرچ آتا ہے، جبکہ ایک ہیومن فریج یونٹ کی قیمت تقریباً 15 لاکھ جاپانی ین (10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد) مقرر کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں اسے صنعتی مقامات، کھیلوں کے میدانوں، تعمیراتی منصوبوں اور ایسے علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کو فوری ٹھنڈک کی ضرورت ہوتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے پیشِ نظر ایسی جدید ٹیکنالوجیز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگر ہیومن فریج اپنے دعوؤں کے مطابق مؤثر ثابت ہوتا ہے تو یہ گرمی سے متاثرہ کارکنوں اور شہریوں کے لیے ایک مفید حل بن سکتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس منفرد ایجاد نے صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔ بعض افراد نے اسے مستقبل کی ضرورت قرار دیا، جبکہ کچھ نے اس کی زیادہ قیمت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام صارفین کے لیے اس تک رسائی آسان نہیں ہوگی۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ صحت اور ماحولیاتی امور کے مطابق شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے جدید کولنگ ٹیکنالوجیز مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں ہیٹ ویوز کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی افادیت اور حفاظت کا مکمل اندازہ وسیع پیمانے پر استعمال کے بعد ہی ہو سکے گا۔
شدید گرمی اب دنیا کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی اور صحت کا چیلنج بن چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے عملی حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم ان ایجادات کو عام لوگوں کی پہنچ میں لانے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
میری رائے میں "ہیومن فریج” ایک دلچسپ اور جدید تصور ہے، جو شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں اس کی قیمت کم ہو جائے اور اس کی افادیت عملی طور پر ثابت ہو جائے تو یہ دنیا کے گرم علاقوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے انتہائی مفید ایجاد ثابت ہو سکتی ہے۔





















