رجب بٹ کے پاس کتنی دولت ہے؟ یوٹیوبر نے پہلی بار راز کھول دیا

مہنگی گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں اور شاہانہ زندگی رجب بٹ کی اصل دولت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

لاہور( خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے پہلی مرتبہ اپنی مجموعی دولت کے بارے میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال ارب پتی بن گئے تھے اور اب ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 کروڑ پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران میزبان نے رجب بٹ سے براہِ راست سوال کیا کہ وہ کروڑ پتی ہیں یا ارب پتی؟ سوال سن کر یوٹیوبر نے مسکراتے ہوئے پہلے میزبان سے پوچھا کہ کیا انہیں کروڑ پتی اور ارب پتی کے درمیان فرق معلوم ہے؟ میزبان کی جانب سے مثبت جواب ملنے کے بعد رجب بٹ نے اپنی مالی حیثیت سے متعلق اہم انکشاف کر دیا۔

رجب بٹ کا کہنا تھا:’’الحمدللہ، میں گزشتہ سال ارب پتی بن گیا تھا۔ میری مجموعی دولت 100 کروڑ پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور میں اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔‘‘

رجب بٹ نے واضح کیا کہ انہیں یہ کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہوں نے تقریباً 12 سال تک مسلسل محنت، لگن اور جدوجہد کی۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نظر آنے والی کامیابی کے پیچھے طویل عرصے کی جدوجہد، مستقل مزاجی اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد شامل ہے۔

معروف یوٹیوبر نے اپنی کامیابی کو مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے وقت، صبر اور بھرپور کوشش درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کے سفر کو بھی یاد کیا۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا شمار پاکستان کے مقبول ترین یوٹیوبرز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نسبتاً کم عرصے میں ڈیجیٹل دنیا میں غیر معمولی شہرت حاصل کی اور لاکھوں افراد کو اپنا مداح بنایا۔

رجب بٹ اپنی ویڈیوز اور خاندانی وی لاگز کے ساتھ ساتھ شاہانہ طرزِ زندگی، مہنگی گاڑیوں، قیمتی گھڑیوں، بیرونِ ملک دوروں اور پرتعیش شادی کی وجہ سے بھی اکثر خبروں اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ان کی آمدن کے بڑے ذرائع میں یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی، مختلف برانڈز کی تشہیری مہمات اور دیگر تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ تاہم ان کی مجموعی دولت سے متعلق بیان ذاتی دعویٰ ہے اور اس کی آزادانہ مالیاتی دستاویزات کے ذریعے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین