ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، ٹرمپ

ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا، تہران معاہدے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی بات کر رہا ہے،امریکی صدر

 واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بحری، فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ تہران اب مذاکرات اور معاہدے کی طرف واپس آنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

ریاست مشی گن میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی ڈرون اور میزائل سازی کی زیادہ تر صلاحیت بھی ختم کر دی ہے، جس کے باعث ایران اب اپنی سابقہ استعداد کے صرف تقریباً 7 فیصد کی رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اگر امریکا نے سخت فوجی اقدامات نہ کیے ہوتے تو ایران کبھی مذاکرات کی میز پر واپس نہ آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایران معاہدے کے لیے خود رابطہ کر رہا ہے۔

انہوں نے ایران کو گزشتہ 47 سے 50 برس سے مشرقِ وسطیٰ کا "غنڈہ” قرار دیتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر منایا جا سکتا ہے، لیکن "ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں۔”

امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ "انتہائی خوشگوار مذاکرات” جاری ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی کارروائیاں اس قدر مؤثر ہیں کہ "ایک بھی کشتی گزر نہیں سکتی۔” ان کے بقول ایران امریکا سے کہہ رہا ہے کہ "براہِ کرم، بحری ناکہ بندی ختم کر دیں۔”

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف طاقتور فوجی آپریشن کے لیے تیار ہے اور سفارت کاری کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ "سفارت کاری تیزی سے ہونی چاہیے، ورنہ پھر بالکل نہیں ہوگی۔”

دوسری جانب ایران کی جانب سے اس سے قبل متعدد بار یہ مؤقف اختیار کیا جا چکا ہے کہ اس نے امریکا سے جنگ بندی یا مذاکرات کی بحالی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے جنگ ختم کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی درخواست نہیں دی۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکا کی ایران پالیسی میں دباؤ اور سفارت کاری کے امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم ان کے متعدد دعوے، خصوصاً ایران کی عسکری صلاحیت اور بحری ناکہ بندی سے متعلق، متحارب فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایسے حالات میں دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کو متوازن انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے اسے امریکی طاقت کا اظہار قرار دیا، جبکہ دیگر نے کہا کہ ایسے سخت بیانات خطے میں کشیدگی مزید بڑھا سکتے ہیں اور سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سخت بیانات سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی بھی بڑی پیش رفت کا انحصار عملی مذاکرات، اعتماد سازی اور دونوں ممالک کے اقدامات پر ہوگا، نہ کہ صرف عوامی بیانات پر۔

مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے استعمال سے زیادہ مؤثر سفارت کاری اور مذاکرات ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اشتعال انگیز بیانات کے بجائے عملی مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل پر توجہ دیں۔

میری رائے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں دونوں جانب سے آنے والے بیانات کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ جب تک کسی دعوے کی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہو، اسے ایک فریق کا مؤقف سمجھا جانا چاہیے، جبکہ خطے کے استحکام کے لیے سفارت کاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین