سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے میں بڑی کامیابی

اس ٹیکنالوجی سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)دنیا بھر میں کروڑوں افراد آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، جبکہ سمندروں میں موجود پانی نمکین ہونے کی وجہ سے براہِ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے سائنس دانوں نے شمسی توانائی کے ذریعے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت کی ہے، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے پر آنے والی لاگت، مارکیٹ میں دستیاب بوتل بند پانی کی قیمت سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی کے باعث پانی کو صاف کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم، پانی صاف کرنے کے موجودہ طریقے زیادہ تر فوسل فیول پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں اور سخت موسمی حالات میں ان ٹیکنالوجیز کا استعمال مہنگا اور دشوار ہو جاتا ہے۔

چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جدید تھری ڈی اسٹرکچر تیار کیا ہے، جو سورج کی حرارت استعمال کرتے ہوئے پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے عمل، یعنی سولر تھرمل ایواپوریشن، کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس نئے ڈھانچے میں باہم مضبوطی سے جڑی ہوئی پولیمر زنجیریں اور کھوکھلے خول نما اسٹرکچر شامل ہیں۔ ان خصوصیات کی بدولت پانی کے بخارات بننے کی رفتار پہلے رپورٹ کی جانے والی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں شمسی توانائی کے ذریعے کم لاگت پر سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بڑھتی ہوئی صاف پانی کی قلت پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو درپیش بڑے بحرانوں میں صاف پانی کی قلت تیزی سے ایک سنگین انسانی، معاشی اور ماحولیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں چینی سائنس دانوں کی جانب سے شمسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں پیشرفت محض ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ مستقبل کی آبی ضروریات کے لیے امید کی ایک اہم کرن ہے۔

اس تحقیق کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کی رفتار پہلے رپورٹ ہونے والی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگر یہ طریقہ بڑے پیمانے پر بھی اسی مؤثر انداز میں کام کرتا ہے تو پانی صاف کرنے کے موجودہ مہنگے نظاموں کا ایک قابلِ عمل متبادل سامنے آ سکتا ہے۔ خصوصاً ایسے ساحلی، دور دراز اور سخت موسمی علاقوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی زیادہ اہم ثابت ہو سکتی ہے جہاں بجلی، ایندھن اور جدید انفراسٹرکچر تک رسائی محدود ہوتی ہے۔

موجودہ ڈی سیلینیشن نظاموں کا بڑا مسئلہ ان کی توانائی کی بلند ضرورت اور فوسل فیول پر انحصار ہے۔ اس کے برعکس شمسی حرارت کو بنیادی توانائی کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف پیداواری اخراجات کم کر سکتا ہے بلکہ ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ چینی محققین کا تیار کردہ تھری ڈی اسٹرکچر اسی سمت میں ایک اہم تکنیکی قدم دکھائی دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین