روزانہ صرف 42 منٹ باہر رہنا دماغی بیماری کا خطرہ کم کر سکتا ہے، تحقیق

اس تحقیق کو براہِ راست علاج یا حتمی حل تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔محققین

بیجنگ:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) جدید طرزِ زندگی، گھروں اور دفاتر تک محدود معمولات اور قدرتی ماحول سے بڑھتی دوری انسان کی جسمانی ہی نہیں بلکہ دماغی صحت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ اب ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ مناسب وقت دھوپ یا کھلی فضا میں گزارنے سے بڑھاپے میں لاحق ہونے والی خطرناک دماغی بیماری ڈیمنشیا (Dementia) کے خطرے میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

چین کے محققین کی جانب سے کی گئی یہ تحقیق معروف طبی جریدے جرنل سائیکیٹری میں شائع ہوئی ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ روزانہ گھر سے باہر گزارا جانے والا وقت انسانی دماغی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ اوسطاً 42 منٹ سے کم وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا، جبکہ جو لوگ روزانہ زیادہ وقت کھلی فضا یا دھوپ میں گزارتے ہیں، ان میں اس بیماری کے امکانات نمایاں طور پر کم دیکھے گئے۔

محققین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے فوائد صرف دھوپ والے دنوں تک محدود نہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ابر آلود موسم میں بھی باقاعدگی سے باہر وقت گزارنے والے افراد میں بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 16 فیصد تک کم دیکھا گیا۔

دھوپ دماغ کو کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہے؟

تحقیق میں شامل ماہرین نے واضح کیا کہ ابھی تک اس بات کا حتمی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ سورج کی روشنی یا کھلی فضا براہِ راست ڈیمنشیا سے تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم اس حوالے سے کئی ممکنہ سائنسی وجوہات زیر غور ہیں۔

ماہرین کے مطابق سورج کی روشنی جسم کی سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) یعنی حیاتیاتی گھڑی کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی نظام انسان کی نیند، ہارمونز، توانائی اور دماغی افعال کو منظم کرتا ہے۔

جب یہ حیاتیاتی نظام بہتر انداز میں کام کرتا ہے تو نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں میں توازن آتا ہے اور ممکنہ طور پر دماغی خلیات بھی زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کھلی فضا میں وقت گزارنے والے افراد عمومی طور پر زیادہ متحرک زندگی گزارتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، سماجی میل جول رکھتے ہیں اور ذہنی طور پر زیادہ فعال رہتے ہیں، جو خود بھی ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے والے عوامل سمجھے جاتے ہیں۔

کیا صرف دھوپ ہی بیماری سے بچا سکتی ہے؟

محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کو براہِ راست علاج یا حتمی حل تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق صرف دونوں عوامل کے درمیان تعلق (Association) ظاہر کرتی ہے، یہ ثابت نہیں کرتی کہ زیادہ دھوپ لینا ہی ڈیمنشیا سے مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے کمزور صحت رکھنے والے افراد یا وہ لوگ جن میں ڈیمنشیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، وہ جسمانی کمزوری یا دیگر طبی وجوہات کی بنا پر گھر سے کم باہر نکلتے ہوں۔ اس لیے مزید تحقیقی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

ڈیمنشیا کیا ہے؟

ڈیمنشیا ایک ایسی دماغی بیماری ہے جس میں یادداشت، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ کرنے کی قوت اور روزمرہ زندگی کے معمولات متاثر ہونے لگتے ہیں۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری کا شکار ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے خطرات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، ذہنی سرگرمیاں، سماجی روابط اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنا دماغی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

نیورولوجی اور دماغی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم کسی بھی شخص کو صرف دھوپ میں وقت گزارنے کو ڈیمنشیا سے مکمل تحفظ کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق متوازن طرزِ زندگی، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول پر قابو، ورزش اور ذہنی سرگرمیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جدید دور میں لوگ موبائل فون، کمپیوٹر اور دفاتر تک محدود ہوتے جا رہے ہیں، جس کے باعث قدرتی ماحول سے دوری بڑھ رہی ہے۔ حالیہ تحقیق اس جانب توجہ دلاتی ہے کہ روزمرہ معمولات میں معمولی تبدیلیاں، جیسے روزانہ کچھ وقت کھلی فضا میں گزارنا، مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم طبی معاملات میں کسی ایک تحقیق کو حتمی نتیجہ سمجھنے کے بجائے مزید سائنسی شواہد کا انتظار ضروری ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس تحقیق کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ مصروف زندگی میں روزانہ چند منٹ واک یا پارک میں وقت گزارنا نہ صرف ذہنی سکون دیتا ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ بعض افراد نے اس تحقیق کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ایک اور دلیل قرار دیا۔

قدرتی ماحول انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، لیکن کسی بھی طبی تحقیق کو احتیاط کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ صحت مند غذا، مناسب ورزش، معیاری نیند اور باقاعدہ طبی معائنہ اب بھی دماغی بیماریوں سے بچاؤ کی بنیادی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے، جبکہ کھلی فضا میں وقت گزارنا ان عادات کا ایک مفید حصہ بن سکتا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ روزانہ کچھ وقت دھوپ یا کھلی فضا میں گزارتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قدرتی ماحول واقعی ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین