نئے مالی سال کا پہلا جھٹکا؟ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بڑھا دی

پیٹرولیم لیوی میں کمی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ، حکومت نے نئی ٹیکس حکمت عملی کے تحت ایڈجسٹمنٹ کر دی

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم حکومت نے ساتھ ہی پٹرولیم لیوی میں اتنی ہی کمی کر کے عوام کو فوری طور پر قیمتوں میں اضافے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی، ڈھائی روپے فی لیٹر اضافی کلائمیٹ لیوی وصول کی جائے گی۔

حکومت نے اسی کے ساتھ ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی میں بھی ڈھائی، ڈھائی روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ کا مقصد کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافے کے اثرات کو متوازن رکھنا ہے تاکہ صارفین پر فوری مالی بوجھ نہ پڑے۔

سرکاری حکام کے مطابق دونوں لیویز میں کی گئی اس ردوبدل کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور صارفین بدستور پہلے والی قیمت پر ہی ایندھن خرید سکیں گے۔

کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق کلائمیٹ سپورٹ لیوی ایک ایسا مالیاتی نظام ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت، صاف توانائی کے فروغ اور گرین انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے وسائل جمع کرنا ہوتا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے ایسے منصوبوں کے لیے مستقل مالی وسائل پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

عوام کو فوری ریلیف، یا مستقبل کی تیاری؟

اگرچہ اس فیصلے کے بعد عوام کو فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیویز کے ڈھانچے میں یہ تبدیلی مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق اگر آئندہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا یا حکومت نے پٹرولیم لیوی میں دوبارہ ردوبدل کیا تو صارفین پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حکومت کا مؤقف

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام نئے مالی سال کی ٹیکس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ماحولیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ عوام پر فوری اضافی بوجھ ڈالنے سے بھی گریز کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لیویز میں یہ ایڈجسٹمنٹ مکمل طور پر متوازن انداز میں کی گئی ہے، جس کے باعث ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔

معاشی ماہرین کی رائے

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے قیمتیں برقرار رکھ کر وقتی طور پر عوام کو ریلیف ضرور دیا ہے، لیکن لیویز کے ڈھانچے میں تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں ماحولیاتی ٹیکسوں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔

ان کے مطابق دنیا کے کئی ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اسی نوعیت کے ٹیکس اور لیویز نافذ کر رہے ہیں، تاہم ضروری ہے کہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن شفاف انداز میں ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت نے اس مرتبہ قیمتیں بڑھانے کے بجائے ٹیکسوں کے اندرونی ڈھانچے میں تبدیلی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس فیصلے سے فوری طور پر عوام پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑا، لیکن یہ واضح اشارہ ضرور ملتا ہے کہ آئندہ برسوں میں ماحولیات سے متعلق ٹیکس پالیسی حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

ان کے مطابق اصل امتحان یہ ہوگا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے اربوں روپے واقعی ماحول دوست منصوبوں، سیلابی تحفظ، جنگلات، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات پر خرچ ہوتے ہیں یا نہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے کو مثبت قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کہاں اور کس طرح خرچ کی جائے گی۔

ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کے بڑے چیلنجز میں شامل ہے اور پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگر کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے وسائل شفاف انداز میں عوامی مفاد اور ماحول کے تحفظ پر خرچ کیے جائیں تو یہ ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے احتساب اور شفافیت ناگزیر ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا حکومت کا قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے لیویز میں ردوبدل کرنا درست فیصلہ ہے؟ اور کیا کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم واقعی ماحولیات کے تحفظ پر خرچ ہونی چاہیے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین