(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی مچھروں کی یلغار بھی بڑھ جاتی ہے اور اکثر لوگ ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ آخر مچھر کچھ افراد کو دوسروں کی نسبت زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ بعض لوگوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ لہسن کھانے سے مچھر دور رہتے ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ وٹامن بی یا کیلے سے پرہیز فائدہ دیتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف گھریلو ٹوٹکے گردش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اب ماہرین نے اس حوالے سے اہم سائنسی حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔
ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ حیاتیات نوشا کیغوبادی کے مطابق مچھر اپنے شکار کا انتخاب اتفاقیہ نہیں کرتے بلکہ اس کے پیچھے کئی سائنسی عوامل کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مادہ مچھر انسان کو کاٹتی ہے کیونکہ اسے اپنے انڈوں کی افزائش کے لیے خون میں موجود پروٹین اور غذائی اجزا درکار ہوتے ہیں، جبکہ نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتے۔
ماہرین کے مطابق مچھر کسی انسان کو تلاش کرنے کے لیے تین بنیادی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں، جن میں جسم کی حرارت، سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی قدرتی بو شامل ہیں۔ یہی عوامل طے کرتے ہیں کہ کون سا شخص مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوگا۔
تحقیق کے مطابق ہر انسان کے جسم کی قدرتی بو مختلف ہوتی ہے، جس پر جینیاتی خصوصیات، جلد پر موجود بیکٹیریا، جسمانی ساخت، پسینہ اور بعض اوقات حال ہی میں کھائی گئی غذا بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی جگہ بیٹھے دو افراد میں سے ایک کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں جبکہ دوسرے کو نسبتاً کم۔
کیا واقعی کیلا کھانے سے مچھر زیادہ آتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے کے حوالے سے کی گئی چند تحقیقات میں دلچسپ نتائج سامنے آئے۔ بعض افراد میں کیلا کھانے کے بعد مچھر نسبتاً زیادہ متوجہ ہوئے، لیکن یہی نتیجہ ہر شخص میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ کچھ افراد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا جبکہ چند میں الٹا مچھر کم متوجہ ہوئے۔
اسی لیے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف کیلا نہ کھانے کو مچھروں سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لہسن اور وٹامن بی سے متعلق حقیقت کیا ہے؟
برسوں سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ لہسن کھانے یا وٹامن بی استعمال کرنے سے مچھر انسان کے قریب نہیں آتے، لیکن اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات اس دعوے کی واضح تصدیق نہیں کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ مختلف مطالعات میں ان نظریات کا جائزہ لیا گیا، لیکن مضبوط شواہد موجود نہیں کہ لہسن یا وٹامن بی مچھروں کو دور رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
البتہ بعض تحقیقی رپورٹس میں یہ ضرور سامنے آیا کہ بیئر پینے والے بعض افراد مچھروں کے لیے نسبتاً زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں۔
مچھروں سے بچنے کا مؤثر طریقہ کیا ہے؟
حیاتیات کے ماہرین کے مطابق مچھروں سے بچنے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ جسمانی حفاظت ہے، نہ کہ غیر مصدقہ گھریلو نسخے۔
ماہرین کی سفارشات کے مطابق:
- مکمل آستین والے کپڑے پہنیں۔
- معیاری انسیکٹ ریپیلنٹ استعمال کریں۔
- جالی دار دروازے، کھڑکیاں اور میش شیڈ استعمال کریں۔
- مچھر بھگانے والے جدید ریپیلنٹ آلات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
- سٹرونیلا موم بتیوں کے مؤثر ہونے کے حق میں تاحال مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔
مچھر صرف نقصان دہ نہیں، ماحول کے لیے بھی ضروری ہیں
تحقیق میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ مچھر انسانوں کے لیے ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن قدرتی ماحولیاتی نظام میں ان کا بھی ایک اہم کردار موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھروں کے لاروا پانی میں موجود نامیاتی مادوں اور جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بالغ مچھر ڈریگن فلائی، مچھلیوں، مینڈکوں، پرندوں اور دیگر جانداروں کی خوراک بنتے ہیں، اس لیے فطری نظام میں ان کی موجودگی بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کی رائے
حیاتیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں سے مکمل نجات حاصل کرنا ممکن نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان کے کاٹنے کے امکانات نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو غیر سائنسی دعوؤں کے بجائے مستند طبی اور سائنسی معلومات پر اعتماد کرنا چاہیے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ہر گرمیوں میں مچھروں سے متعلق درجنوں افواہیں اور گھریلو ٹوٹکے سامنے آتے ہیں، لیکن جدید سائنسی تحقیق واضح کرتی ہے کہ مچھر کسی ایک غذا یا نسخے کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم کی قدرتی خصوصیات کی بنیاد پر انسان کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس تحقیق کے بعد دلچسپ تبصرے دیکھنے میں آئے۔ بعض صارفین نے کہا کہ اب انہیں سمجھ آ گیا کہ گھر میں صرف انہیں ہی مچھر کیوں کاٹتے ہیں، جبکہ کئی افراد نے مچھر بھگانے کے روایتی ٹوٹکوں پر سوالات اٹھائے اور سائنسی معلومات کو مفید قرار دیا۔
مچھر اگرچہ چھوٹا سا کیڑا ہے، لیکن دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے احتیاط، صفائی، کھڑے پانی کا خاتمہ اور سائنسی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات ہی بہترین دفاع ہیں۔ غیر مصدقہ گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی مشوروں پر عمل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں مچھر دوسروں کی نسبت زیادہ کاٹتے ہیں؟ آپ کے خیال میں کون سا طریقہ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔





















