امریکا اب دھونس جمانے کی پوزیشن میں نہیں، ایران

امریکا اس وقت ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز پر غور کر رہا ہے

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب واشنگٹن اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ دیگر ممالک پر اپنی مرضی مسلط کر سکے، اور اسے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان Reza Talaei-Nik نے بیان دیا کہ امریکا اب آزاد ممالک کو "ڈکٹیٹ” کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، اور عالمی حالات بدل چکے ہیں جہاں یکطرفہ دباؤ کی پالیسی مؤثر نہیں رہی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا اس وقت ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں اہم نکتہ Strait of Hormuz کو دوبارہ کھولنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کو اپنے "غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات” ترک کرنا ہوں گے، کیونکہ موجودہ عالمی منظرنامے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی آ چکی ہے اور اب یکطرفہ فیصلے قابل قبول نہیں رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں وہ ایک طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنی خودمختاری اور مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا پیغام بھی دے رہا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف فوجی نہیں بلکہ سفارتی اور معاشی محاذ پر بھی ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر بیان اور ہر تجویز مستقبل کے منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین