تعلیماتِ اسلام : قول و عمل کا امتزاج

اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔:ترجمہ

سیّد موٴیّد علی بخاری
انسان کی کامیابی اور ناکامی کا اصل تعلق اس کے کردار اور عمل سے ہوتا ہے۔ انسان کے قول و فعل میں ہم آہنگی ہی اس کی شخصیت کو باوقار اور اثر انگیز بناتی ہے۔ اور یہی وہ پیغام ہے جو اسلامی تعلیمات انسان کو دیتی ہیں کہ حقیقی کامیابی صرف باتوں میں نہیں بلکہ ان پر عمل کرنے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان کو محض نصیحتوں اور الفاظ تک معددحدود نہیں رکھتیں بلکہ انہیں عمل کی روح عطا کرتی ہیں۔ جب انسان اپنے قول کو عمل کا آئینہ بنا لیتا ہے تو اس کے کردار میں سچائی، دیانت اور اخلاص کی روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی قول و عمل کا حسین امتزاج ایک باوقار شخصیت کو جنم دیتا اور ایک صالح،  پُرامن اور مثالی معاشرے کی بنیاد استوار کرتا ہے۔
انسان کے کردار کی اصل خوبصورتی اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کے الفاظ اور اعمال ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ محض بلند دعوے، نصیحتیں اور اچھی باتیں انسان کو عظمت نہیں بخش سکتیں، بلکہ اصل قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی کہی ہوئی باتوں کو عمل کا روپ دے۔ اسلام نے ہمیشہ قول و عمل کی یکسانیت پر زور دیا ہے اور انسان کو منافقت  سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ مجید میں  اللہ رب العزت کی ذات نے یوں بیان کیا  ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔:ترجمہ
یہ آیتِ مبارکہ انسان کو ایک آئینہ دکھاتی ہے: جس میں وہ اپنے قول اور عمل کے فرق کو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان کی اصل پہچان اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ مگر افسوس! آج کے دور میں ہماری سب سے بڑی کمزوری یہی بن چکی ہے کہ زبانوں پر دعوے بہت ہیں مگر کردار میں عمل کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔ زبان پر سچائی، انصاف اور اخلاق کے نعرے تو موجود ہیں لیکن عملی زندگی میں ان کی جھلک کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ قول و فعل کے درمیان یہ فاصلہ نہ صرف انسان کی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بے اعتمادی، انتشار اور اخلاقی زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اقبال علیہ الرحمہ  اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرمایا۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا  ہے
گفتار کا غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
قول و فعل کے درمیان پیدا ہونے والا یہی تضاد انسان کو باطن سے کمزور اور معاشرے کو اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ محض سوچ، عقیدہ یا علم انسان کی شخصیت کو اس وقت تک حقیقت میں نہیں بدلتا جب تک وہ اس کے کردار اور عمل میں ظاہر نہ ہو۔
اقبال علیہ الرحمہ  نے اسی مفہوم کو فلسفیانہ انداز میں یوں بیان کیا ہے:
Life is not merely a matter of thought or belief; it finds its true meaning in action and lived experience.
                    Book : The Reconstruction of Religious Thought In Islam
زندگی محض فکر یا عقیدے کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقی معنویت عمل اور عملی تجربے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
اس دینی و فکری حقیقت کے تناظر میں جب ہم اپنی عملی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ امر نہایت افسوس کے ساتھ واضح ہوتا ہے کہ قول و عمل کے درمیان فاصلہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کا معاشرہ بظاہر بلند دعووں، خوبصورت الفاظ اور اخلاقی نعروں سے تو مزین ہے، مگر عملی زندگی میں ان کی جھلک نہایت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ سچائی، دیانت، انصاف اور اخلاص جیسے وہ اعلیٰ اوصاف جنہیں اسلام نے انسانی کردار کی بنیاد قرار دیا تھا، رفتہ رفتہ محض زبانی باتوں اور رسمی گفتگو تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں اعتماد کی کمی، اخلاقی بے چینی اور سماجی انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے الفاظ کی خوبصورتی تو اختیار کر لی ہے، مگر عمل کی اصل روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ایسے  پُرفتن حالات میں یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ آخر وہ کون سا عملی نمونہ ہے جو محض الفاظ نہیں بلکہ کردار کی روشن حقیقت بن کر انسانیت کی صحیح رہنمائی کر سکے؟
ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جب انسان عملی نمونے کی تلاش میں نکلتا ہے تو سیرتِ نبوی ﷺ ایک کامل اور روشن حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام محض الفاظ، دعووں اور نصیحتوں کا مذہب نہیں بلکہ کردار، عمل اور اخلاص کا دین ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو جن اصولوں کی تعلیم دی، سب سے پہلے انہیں اپنی ذاتِ اقدس میں نافذ فرما کر دنیا کے سامنے عملی نمونہ پیش کیا۔ اگر آپ ﷺ نے سچائی کا درس دیا تو اپنی چالیس سالہ زندگی کو اس کی روشن دلیل بنا دیا، اور اگر امانت و دیانت کی تعلیم دی تو سب سے پہلے اپنی حیاتِ مبارکہ کا وہ پاکیزہ کردار انسانیت کے سامنے رکھا جس کی گواہی دوست ہی نہیں بلکہ کفار اور منافقین بھی دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ کو “صادق” اور “امین” جیسے عظیم القابات سے یاد کیا گیا۔
یہی قول و عمل کی ہم آہنگی اسلام کی اصل روح ہے جس پر نبی کریم ﷺ نے خود بھی کامل طور پر عمل فرمایا اور اپنی امت کو بھی اسی کی تعلیم دی، اور ان لوگوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی جن کا قول ان کے عمل سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی قول یا عمل کی دعوت دیتا ہے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا، وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے۔
(تفسیر درمنثور، 1: 177)
حضور نبی اکرم ﷺ کے اس فرمانِ اقدس کی تائید اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں یہ آیتِ مبارکہ نازل فرما کر کی۔
كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔
ترجمہ    :   اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
یہ حقیقت دراصل اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کی فکری اور نظریاتی زندگی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ عملی صورت اختیار نہ کر لے۔  اور اگر انسان اس حقیقت کو پہچان لے تو یہی حقیقت اللہ رب العزت کے قرب کا سبب بنتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قول و عمل کے اس حسین امتزاج کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں جس کی تعلیم اسلام نے ہمیں دی ہے۔ اگر انسان اپنے الفاظ کو عمل کا لباس پہنا دے، اپنی نصیحتوں کو کردار کی صورت میں ڈھال دے اور اپنی باتوں کو عملی سچائی میں بدل دے تو نہ صرف اس کی شخصیت میں وقار پیدا ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ اعتماد، امن اور اخلاقی بلندی کی مثال بن سکتا ہے۔ درحقیقت قوموں کی ترقی کا راز بھی اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ان کے قول اور عمل میں کس قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جب الفاظ اور کردار میں تضاد پیدا ہو جائے تو معاشرہ کھوکھلا ہو جاتا ہے، اور جب یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو ایک مضبوط اور مثالی تہذیب جنم لیتی ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے، نہ ناری ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین