امریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں قرارداد، ایران تنازع میں “قابل اعتماد ثالث” قرا

قرارداد میں ایران جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا کے ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حق میں ایک اہم قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں ایران تنازع کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک “غیر جانبدار اور قابل اعتماد ثالث” قرار دیا گیا ہے۔

یہ قرارداد امریکی کانگریس کے رکن Al Green نے United States House of Representatives میں پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے ایران تنازع کے دوران کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔

قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان نے نہ صرف فریقین کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ جنگ بندی اور تعمیری مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں بھی بھرپور تعاون فراہم کیا۔

امریکی ایوان میں پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان کی جانب سے سفارتی وفود کی میزبانی، مذاکراتی انتظامات اور امن عمل کیلئے کیے گئے خصوصی اقدامات کو بھی سراہا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ پاکستان نے امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے شہروں کی بندش سمیت مختلف مشکلات برداشت کیں تاکہ تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔

قرارداد میں ایران جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہوئے۔ دستاویز میں عالمی توانائی سپلائی اور فیول مارکیٹ پر پڑنے والے منفی اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی۔

قرارداد کے مطابق جنگ کے اخراجات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور اندازاً روزانہ ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، جس نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کانگریس میں اس نوعیت کی قرارداد پیش ہونا پاکستان کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اسی انداز میں سفارتی کردار جاری رکھتا ہے تو وہ مستقبل میں بھی علاقائی تنازعات میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین