لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ملک میں بڑھتی ہوئی تمباکو نوشی، نوجوان نسل کا اس جانب جھکاؤ اور صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا بوجھ یہ تینوں عوامل اب پالیسی سازوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے میں ایک نئی تجویز نے نہ صرف معاشی بلکہ سماجی سطح پر بھی اہم بحث چھیڑ دی ہے۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم Society for the Protection of the Rights of the Child (سپارک) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرتے ہوئے سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے تو قومی خزانے میں تقریباً 51 ارب روپے تک کا اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سفارشات میں تجویز دی گئی ہے کہ کم قیمت سگریٹ کے ایک پیکٹ پر کم از کم 35 روپے جبکہ مہنگے برانڈز پر 21 روپے تک اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین نے ٹیکس کے موجودہ دوہرے نظام کو بتدریج ختم کر کے یکساں پالیسی اپنانے پر زور دیا ہے، تاکہ سستے اور مہنگے سگریٹ کے درمیان فرق کم ہو اور ان کی دستیابی محدود کی جا سکے۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار نوجوان اس عادت کو اپنانے سے باز رہ سکتے ہیں، جبکہ قریباً 2 لاکھ 70 ہزار افراد کے لیے اسے ترک کرنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
تنظیم کے پروگرام منیجر خلیل احمد ڈوگر نے اس حوالے سے کہا کہ تمباکو نوشی ملک کے صحت کے شعبے پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے اور ہر سال لگ بھگ دو لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر ٹیکس میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث مہنگائی کے باوجود یہ مصنوعات نسبتاً سستی ہو گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کم رکھا جائے تو یہ عام افراد، خصوصاً نوجوانوں کی پہنچ میں آسانی سے آ جاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو پالیسی سازی میں خلا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس رجحان کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جہاں سگریٹ کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں، جس سے اس کے استعمال میں اضافے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے مرحلہ وار ٹیکس پالیسی اختیار کرنے کی تجویز دی، جس کے تحت کم قیمت سگریٹ پر زیادہ اور مہنگے برانڈز پر مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے تاکہ قیمتوں کا فرق کم ہو اور نئی نسل کو اس لت سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر حکمت عملی اور سخت اقدامات کے ذریعے اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
تنظیم کے مطابق تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ صرف مالی فائدے تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی صحت کے تحفظ، حکومتی آمدن میں اضافے اور نوجوان نسل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ناگزیر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان محض ایک صحت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک پیچیدہ معاشی، سماجی اور پالیسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت کہ ملک میں سگریٹ دیگر خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً سستے ہیں، اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ کم قیمت ہونے کے باعث سگریٹ تک رسائی آسان ہو جاتی ہے، اور یہی آسانی نوجوانوں کو اس لت کی طرف دھکیلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اگر پالیسی کے زاویے سے دیکھا جائے تو تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ دنیا بھر میں ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ براہِ راست کھپت میں کمی کا سبب بنتا ہے، خاص طور پر کم عمر اور کم آمدنی والے طبقات میں۔ پاکستان میں بھی یہی اصول لاگو ہو سکتا ہے، جہاں قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی طلب کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
معاشی اعتبار سے یہ اقدام دوہرا فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔ ایک جانب حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب صحت کے شعبے پر پڑنے والا بوجھ بتدریج کم ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے جڑی بیماریوں—جیسے پھیپھڑوں کے امراض، دل کے مسائل اور کینسر—کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات قومی وسائل پر بھاری بوجھ ڈالتے ہیں۔ اگر سگریٹ کی کھپت کم ہوتی ہے تو طویل المدتی بنیادوں پر صحت کے اخراجات میں بھی کمی ممکن ہے۔
تاہم اس پالیسی کے نفاذ میں چند اہم چیلنجز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑا مسئلہ غیر قانونی یا اسمگل شدہ سگریٹ کی دستیابی ہے، جو اکثر کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں اور ٹیکس نظام کو غیر مؤثر بنا دیتے ہیں۔ اگر ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس غیر رسمی مارکیٹ پر قابو نہ پایا گیا تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے لیے سخت نگرانی، مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد کی ضرورت ہوگی۔
اسی طرح ٹیکس کے ڈھانچے میں موجود تفاوت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سستے اور مہنگے سگریٹ کے درمیان قیمت کا بڑا فرق صارفین کو سستے متبادل کی طرف منتقل کر دیتا ہے، جس سے مجموعی کھپت میں خاطر خواہ کمی نہیں آتی۔ لہٰذا یکساں یا بتدریج ہم آہنگ ٹیکس نظام کی تشکیل ناگزیر ہے تاکہ قیمتوں کا فرق کم ہو اور صارفین کے پاس سستے آپشنز محدود رہ جائیں۔
سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو نوجوانوں کو اس لت سے بچانا سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ زیادہ تر افراد تمباکو نوشی کا آغاز کم عمری میں کرتے ہیں، اور ایک بار یہ عادت بن جائے تو اسے ترک کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافہ درحقیقت ایک حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے، جو نوجوانوں کو اس راستے پر قدم رکھنے سے روک سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک مالیاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک جامع عوامی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے، جس کا مقصد صحت عامہ کا تحفظ، معاشی استحکام اور آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل فراہم کرنا ہو۔ اگر اس اقدام کو مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی اور آگاہی مہمات کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ ملک میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔





















