چنئی (ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)جنوبی بھارتی ریاست Tamil Nadu کے نئے وزیراعلیٰ اور سابق فلمی سپر اسٹار Joseph Vijay نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں 700 سے زائد سرکاری شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ وجے نے مندروں، اسکولوں اور بس اسٹینڈز کے قریب قائم 717 شراب کی دکانوں کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تمام دکانیں Tamil Nadu State Marketing Corporation کے تحت چلائی جا رہی تھیں اور حکام کو دو ہفتوں کے اندر ان دکانوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ریاست میں شراب نوشی کے بڑھتے رجحان کو کم کرنا اور سماجی مسائل پر قابو پانا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وجے نے اقتدار سنبھالتے ہی ایسا فیصلہ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی حکومت سماجی اصلاحات اور عوامی مسائل پر فوری توجہ دینا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ریاستی انتخابات میں وجے کی جماعت Tamilaga Vettri Kazhagam نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کیں جبکہ اتحادی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
سابق فلمی سپر اسٹار جوزف وجے نے حال ہی میں وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور ان کے اس فیصلے کو نئی حکومت کا اہم سیاسی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بھارت کی جنوبی ریاستوں میں شراب نوشی ایک بڑا سماجی اور سیاسی مسئلہ رہی ہے، جہاں حکومتوں کو ایک طرف ریونیو جبکہ دوسری طرف سماجی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ وجے نے بطور نئے وزیراعلیٰ یہ فیصلہ کر کے خود کو روایتی سیاستدانوں سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کے مطابق چونکہ وجے فلمی دنیا میں ایک مقبول عوامی شخصیت رہے ہیں، اس لیے ان سے عوام کی توقعات بھی زیادہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار کے آغاز میں ہی سخت فیصلے کر کے اپنی سیاسی سنجیدگی دکھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ شراب کی دکانیں بند کرنے سے سماجی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے معاشی اثرات اور سرکاری ریونیو میں کمی بھی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر وجے کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے “جرات مندانہ اور عوام دوست اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں کے قریب شراب کی دکانیں بند ہونا ایک مثبت فیصلہ ہے۔
دوسری جانب بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے حکومت کو مالی نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ تامل ناڈو میں شراب کی فروخت سرکاری آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “فلمی ہیرو اب حقیقی زندگی میں بھی ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
سیاسی اور سماجی تجزیہ نگاروں کے مطابق وجے کا یہ اقدام محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی بھارت میں شراب بندی یا شراب کی فروخت محدود کرنے کے فیصلے ہمیشہ حساس سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق براہِ راست معیشت، سیاست اور سماجی رویوں سے ہوتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر وجے اپنی سماجی اصلاحات کی پالیسی کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھاتے ہیں تو وہ مستقبل میں جنوبی بھارت کی سیاست میں ایک مضبوط اور منفرد سیاسی شناخت قائم کر سکتے ہیں۔





















