“کم فیکٹریاں مگر زہریلی فضا، پاکستان اور ایران میں آلودگی کیوں بے قابو ہو رہی ہے؟

پاکستان اور ایران دونوں ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں موسم پہلے ہی سخت ہے

غلام مرتضیٰ

دنیا میں جب آلودگی کی بات ہوتی ہے تو اکثر ذہن میں یورپ، چین یا امریکہ کی بڑی بڑی فیکٹریاں آتی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج پاکستان اور ایران جیسے ممالک، جہاں صنعتی ترقی یورپ کے مقابلے میں بہت کم ہے، وہاں فضائی آلودگی اور موسمی شدت کہیں زیادہ خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ لاہور، کراچی، تہران، اصفہان اور مشہد جیسے شہر بعض اوقات دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

اس کا جواب صرف فیکٹریوں میں نہیں بلکہ جغرافیہ، ناقص منصوبہ بندی، سیاسی بحران، جنگی ماحول، پانی کی قلت، گردوغبار، گاڑیوں کے دھوئیں اور موسمیاتی تبدیلی کے مجموعے میں چھپا ہوا ہے۔

پاکستان اور ایران دونوں ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں موسم پہلے ہی سخت ہے۔ گرمی زیادہ، بارش کم اور صحرائی علاقے وسیع ہیں۔ ایران میں خشک سالی نے زمین کو بنجر بنا دیا جبکہ پاکستان میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے ماحول کا توازن بگاڑ دیا۔ جب زمین خشک ہوتی ہے تو معمولی ہوا بھی مٹی اور گرد کو فضا میں اٹھا دیتی ہے، اور یہی گرد بعد میں “سموگ” اور زہریلی فضا کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ایران میں خاص طور پر جنوب اور جنوب مغرب کے علاقوں میں گرد کے طوفان مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ نئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایران کی تقریباً 38 فیصد آبادی ہر سال شدید گرد آلود ماحول کا سامنا کرتی ہے۔

پاکستان میں صورتحال اس لیے مزید خراب ہے کیونکہ یہاں ناقص ایندھن، پرانی گاڑیاں، فصلوں کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹے اور بے ہنگم شہری آبادی ایک ساتھ مل کر زہریلا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ لاہور کی سموگ صرف دھند نہیں بلکہ زہریلے ذرات، کاربن، سلفر اور دھوئیں کا مہلک مرکب ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت کی الٹی تہہ (temperature inversion) آلودگی کو زمین کے قریب قید کر دیتی ہے، جس سے لوگ سانس، دل اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

یورپ میں صنعت زیادہ ہونے کے باوجود وہاں سخت ماحولیاتی قوانین، صاف ایندھن، جدید ٹرانسپورٹ اور فلٹریشن سسٹم موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اور ایران میں قوانین کمزور، نگرانی ناقص اور شہری منصوبہ بندی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے کم صنعت ہونے کے باوجود آلودگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی یا “ویدر وار”؟

حالیہ مہینوں میں ایک اور حیران کن بحث نے زور پکڑا۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ پھیلایا گیا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں ایک خفیہ “موسم کنٹرول سینٹر” کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران اور عراق میں بارشیں شروع ہو گئیں اور درجہ حرارت کم ہوگیا۔ بعض پوسٹس میں اسے امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ “ویدر ویپن” سے بھی جوڑا گیا۔

یہ کہانی عوام میں اس لیے تیزی سے پھیلی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی پانی کی کمی، خشک سالی اور سیاسی کشیدگی موجود ہے۔ لوگ ایک سادہ وضاحت چاہتے تھے: “بارش رک گئی کیونکہ کوئی موسم کنٹرول کر رہا تھا۔”

حقیقت مگر اس سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے۔

متحدہ عرب امارات واقعی “کلاؤڈ سیڈنگ” پروگرام چلاتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ چیز نہیں بلکہ ایک سرکاری سائنسی پروگرام ہے جس کا مقصد مخصوص بادلوں میں کیمیکل چھوڑ کر بارش کے امکانات بڑھانا ہوتا ہے۔ مگر سائنسدان واضح طور پر کہتے ہیں کہ کلاؤڈ سیڈنگ محدود پیمانے کی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ پورے خطے کا موسم تبدیل نہیں کر سکتی، نہ ہی کئی ممالک میں اچانک بارشوں یا درجہ حرارت میں بڑی تبدیلی کی وجہ بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کلاؤڈ سیڈنگ صرف پہلے سے موجود بادلوں پر معمولی اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ “آسمان سے بارش پیدا” نہیں کرتی۔ اسی لیے ایران یا عراق میں حالیہ بارشوں کو کسی خفیہ موسمی ہتھیار سے جوڑنے کے دعوے کا کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں۔

سوشل میڈیا اور Reddit پر بھی اس موضوع پر شدید بحث ہوئی۔ کئی صارفین نے واضح کیا کہ کلاؤڈ سیڈنگ مقامی سطح پر محدود اثر رکھتی ہے اور پورے خطے میں بارش یا طوفان پیدا نہیں کر سکتی۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جنگی سیاست اور سوشل میڈیا مل کر خوف اور سازشی نظریات کو بڑھا رہے ہیں۔ جب عوام حکومتوں پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو پھر ہر غیر معمولی بارش، ہر طوفان اور ہر خشک سالی کے پیچھے “خفیہ طاقتوں” کو تلاش کیا جاتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں کو سب سے زیادہ نقصان اپنے اندرونی مسائل سے ہو رہا ہے:

  • جنگلات کی کٹائی
  • ناقص ایندھن
  • پانی کا ضیاع
  • غیر منصوبہ بند شہر
  • کمزور ماحولیاتی پالیسیاں
  • اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سنجیدہ حکمت عملی کا فقدان

اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آنے والے برسوں میں گرمی، پانی کی کمی، گردوغبار اور سموگ صرف موسمی مسئلہ نہیں رہیں گے بلکہ معاشی اور انسانی بحران بن جائیں گے۔

اور شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم اصل مسائل حل کرنے کے بجائے “موسم کنٹرول” کی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین