ایران پر بڑا حملہ عین وقت پر روک دیا گیا، ٹرمپ نے وجہ بتا دی

ٹرمپ کے مطابق خاص شخصیات نے کہا، “کیا آپ رک سکتے ہیں؟ ہم ڈیل کرادیں گے۔”

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر ایک “فیصلہ کن حملہ” پاکستان کی درخواست پر روک دیا گیا تھا۔

فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کی بعض “بہت اچھی شخصیات” نے امریکا سے رابطہ کیا اور کہا کہ فوری عسکری کارروائی روک دی جائے کیونکہ سفارتی حل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ان شخصیات نے کہا، “کیا آپ رک سکتے ہیں؟ ہم ڈیل کرادیں گے۔”

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے معاملے میں وہی قدم اٹھائے گا جو اسے درست محسوس ہوگا، تاہم واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ Strait of Hormuz کھلی اور محفوظ رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ دنیا معمول کے مطابق آگے بڑھے گی اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا ضروری ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے چین اور تائیوان کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر کیلئے تائیوان ہمیشہ اہم مسئلہ رہا ہے، تاہم “جب تک میں موجود ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ چین کوئی بڑا اقدام کرے گا۔”

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تائیوان میں چِپس تیار کرنے والی کمپنیاں امریکا منتقل ہو کر اپنی پیداوار جاری رکھیں تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکا کی برتری قائم رہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر واقعی پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ خطے میں اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے “فیصلہ کن حملہ” روکنے کا اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ امریکا بھی مکمل جنگ کے ممکنہ نتائج سے محتاط تھا۔

ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور خلیجی استحکام سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان کے بعد مختلف ردعمل سامنے آئے۔

پاکستانی صارفین نے اسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جبکہ بعض افراد نے سوال اٹھایا کہ آیا واقعی جنگی کارروائی اتنی قریب پہنچ چکی تھی۔

کئی صارفین نے کہا کہ اگر پاکستان نے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا تو یہ پورے خطے کیلئے مثبت پیش رفت ہے۔

دوسری جانب بعض ناقدین نے ٹرمپ کے بیانات کو سیاسی انداز قرار دیتے ہوئے محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک نے سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بڑی جنگ کی صورت میں عالمی تیل مارکیٹ شدید متاثر ہو سکتی تھی، اسی لیے عالمی طاقتیں مکمل تصادم سے بچنے کی کوشش کرتی رہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف مکمل جنگ سے بھی گریز کر رہا ہے۔

آپ کے خیال میں کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکا کے درمیان مؤثر ثالث بن سکتا ہے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین