تل ابیب (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو ایک بار پھر اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین مرحلے سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی اتحاد کے اندر بڑھتے اختلافات اور سیاسی کشیدگی کے باعث ان کی حکومت شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تحریک نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کی ہاؤس کمیٹی نے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کو تحلیل کرنے کے بل کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیتے ہوئے اسے مزید قانون سازی کیلئے آگے بڑھا دیا ہے۔ کمیٹی میں بل کے حق میں 8 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ سامنے نہیں آیا، جسے وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل آج پہلی ریڈنگ کیلئے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ بل مختلف آئینی مراحل سے گزر کر حتمی منظوری حاصل کر لیتا ہے تو اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل بعض جماعتوں اور رہنماؤں کے درمیان پالیسی معاملات پر اختلافات کافی عرصے سے موجود تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں یہ اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جس کے باعث حکومت کی پارلیمانی پوزیشن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ فی الحال بل میں کسی حتمی انتخابی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تاہم بعد کے مراحل میں انتخابات کی تاریخ شامل کی جائے گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 8 ستمبر سے 26 اکتوبر 2026 کے درمیان انتخابات کرائے جانے کا امکان زیر غور ہے۔
اسرائیلی قانون کے مطابق اگر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل منظور ہو جاتا ہے تو پانچ ماہ کے اندر اندر نئے عام انتخابات کرانا ضروری ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں قبل از وقت انتخابات کی بازگشت تیزی سے سنائی دے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اس وقت نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی اتحادی جماعتوں کے دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر سیاسی بحران مزید گہرا ہوا تو موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اسرائیلی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو طویل عرصے سے سیاسی بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے اقتدار میں برقرار رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل کو کمیٹی سے منظور ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومتی اتحاد میں دراڑیں گہری ہو چکی ہیں۔ اگر اتحادی جماعتوں نے اپنی حمایت واپس لے لی تو نیتن یاہو کیلئے اقتدار بچانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ جنگ، داخلی سیاسی دباؤ، معاشی چیلنجز اور بین الاقوامی تنقید نے بھی اسرائیلی حکومت کو کمزور کیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل
اسرائیلی سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کے بعد شدید بحث جاری ہے۔
کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل سیاسی عدم استحکام ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور نئے انتخابات ہی اس بحران کا حل ہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کیلئے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
بعض شہریوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے بجائے اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ، فلسطین، ایران اور علاقائی سلامتی سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان بھی نئی حکومت کی تشکیل سے جڑا ہوا ہے۔
کئی ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی بحران اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم اور عوامی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور سیاسی احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختلافات اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔
اگرچہ انتخابات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم بار بار سیاسی عدم استحکام کسی بھی ملک کی معاشی اور سفارتی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ نیتن یاہو ایک بار پھر سیاسی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا اسرائیل نئے انتخابات کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
میری رائے میں اس پیش رفت کو اسرائیلی سیاست کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ تحلیل ہو جاتی ہے تو یہ صرف حکومت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ اسرائیل کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی استحکام کسی بھی ریاست کی طاقت ہوتا ہے، اور موجودہ بحران اسرائیلی قیادت کیلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔





















