اسلام آباد / پشاور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملک بھر میں موسم نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں، سیاحوں اور ضلعی انتظامیہ کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے جس کے باعث 2 جون سے 5 جون تک پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں جاری شدید گرمی کی لہر نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بلند پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برفانی ذخائر معمول سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس اور مانسہرہ سمیت حساس اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
مراسلے میں ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کریں، مقامی آبادی کو بروقت وارننگ جاری کریں اور تمام ہنگامی اداروں کو مکمل طور پر فعال رکھیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 4 جون کی شام سے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے اور یہی بارشیں پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے ساتھ مل کر خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی صورت میں چند منٹوں کے اندر بڑے پیمانے پر پانی اور ملبہ نشیبی آبادیوں کی جانب بڑھ سکتا ہے جس سے جانی اور مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سوات، چترال، دیر، کوہستان اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈز، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے دریا کنارے آباد افراد، پہاڑی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو خصوصی طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
ادارے نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہنگامی بنیادوں پر الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری وسائل تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب پاکستان میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ہر سال گرمی کی شدت میں اضافہ، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور غیر متوقع بارشیں قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد بار رونما ہو چکے ہیں، جس سے کئی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور مقامی آبادی کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کے مطابق متعلقہ اداروں کی بروقت تیاری اور عوامی آگاہی ہی ممکنہ نقصان کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
عوامی ردعمل
پی ڈی ایم اے کے الرٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔
شمالی علاقوں کے رہائشیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات مزید بہتر بنائے جبکہ کئی افراد نے سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
متعدد صارفین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار بڑھا رہا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جدید وارننگ سسٹمز، بہتر انفراسٹرکچر اور مقامی آبادی کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا لیکن بروقت تیاری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ حکومت، اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
میری رائے میں شمالی علاقوں میں رہنے والے افراد اور سیاحوں کو آئندہ چند روز غیر ضروری خطرات سے بچنا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کی وارننگز کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ احتیاط، بروقت معلومات اور ذمہ دارانہ رویہ ہی اس قسم کی صورتحال میں سب سے بڑی حفاظت ہے۔





















