بچے خطرے میں! آلودہ فضا کے اثرات جوانی تک برقرار رہنے کا انکشاف

بچپن اور دورانِ حمل آلودہ فضا کا سامنا کرنے والے بچوں میں پھیپھڑوں کی نشوونما متاثر ہونے کا انکشاف، ماہرین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا

لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)فضائی آلودگی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اب یہ آنے والی نسلوں کی صحت کیلئے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں کی جانے والی ایک نئی اور طویل المدتی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں کی قدرتی نشوونما کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات جوانی تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے برطانیہ کے شہر برسٹل اور اس کے گردونواح میں 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے پانچ ہزار سے زائد بچوں کا پیدائش سے لے کر جوانی تک تفصیلی جائزہ لیا۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں فضائی آلودگی کا سامنا انسانی صحت خصوصاً پھیپھڑوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران بچوں کے پھیپھڑوں کے مختلف مراحل پر طبی معائنے کیے گئے۔ پہلی مرتبہ آٹھ سال کی عمر میں، دوسری مرتبہ 15 سال کی عمر میں اور پھر 24 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جب عام طور پر انسانی پھیپھڑے اپنی مکمل نشوونما حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔

ماہرین نے تحقیق کے دوران فضائی آلودگی کے مختلف ذرائع کا بھی جائزہ لیا جن میں باریک زہریلے ذرات، ڈیزل گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی اور فوسل فیول سے چلنے والے بوائلرز سے پیدا ہونے والی نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ شامل تھی۔

تحقیق میں یہ بھی جانچا گیا کہ بچوں نے دورانِ حمل اور بچپن کے مختلف مراحل میں کتنی مقدار میں فضائی آلودگی کا سامنا کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کو زندگی کے ابتدائی برسوں میں زیادہ فضائی آلودگی کا سامنا رہا، ان کے پھیپھڑوں کی نشوونما نسبتاً سست رہی اور ان کی سانس لینے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔

تحقیق کی سربراہ پروفیسر این ہینسل کے مطابق اس مطالعے کیلئے کئی برسوں تک معلومات اکٹھی کی گئیں۔ ماہرین نے برسٹل سٹی کونسل سے حاصل کردہ ٹریفک ڈیٹا اور دیگر ماحولیاتی ریکارڈز کی مدد سے بچوں کی آلودگی کے سامنے موجودگی کا تفصیلی تخمینہ تیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف فوری صحت کے مسائل پیدا نہیں کرتی بلکہ بچوں کی جسمانی نشوونما پر بھی دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پھیپھڑوں کی کمزور نشوونما مستقبل میں دمہ، سانس کی بیماریوں اور دیگر دائمی طبی مسائل کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق دنیا بھر کی حکومتوں کیلئے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی فضائی آلودگی بچوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے تو ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان جیسے ممالک میں صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کو دیکھتے ہوئے اس نوعیت کی تحقیقات انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔

عوامی ردعمل

تحقیق منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کئی والدین نے کہا کہ بچوں کیلئے صاف اور محفوظ ماحول کی فراہمی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

بعض صارفین نے صنعتی آلودگی، گاڑیوں کے دھوئیں اور ناقص ماحولیاتی پالیسیوں کو صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین ماحولیات اور صحت عامہ کے مطابق بچوں کے پھیپھڑے مسلسل نشوونما کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں، اس لیے وہ فضائی آلودگی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے ٹریفک کنٹرول، صاف توانائی کے استعمال، درختوں کی شجرکاری اور صنعتی اخراج پر سخت نگرانی ناگزیر ہے۔

یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا بڑا بحران بن چکی ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومتوں، اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ بچوں کو صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

میری رائے میں فضائی آلودگی کا مسئلہ پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ بچوں کی صحت کو محفوظ بنانے کیلئے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ ہر شہری کو بھی ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہوگا۔ صاف فضا ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین