واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کیے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اگر معاہدہ طے پا گیا تو ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل ہو جاتی ہے تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں استحکام پیدا ہوگا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس وقت وہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہش مند نہیں، تاہم اگر مذاکرات کامیاب ہوئے اور کوئی جامع معاہدہ طے پا گیا تو ایسی ملاقات خارج از امکان نہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جلد جان جائیں گے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور اس میں کیا شامل ہے۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے امریکی افواج کو نشانہ بنایا گیا تو اسے جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز سمجھا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بدستور حساس مرحلے میں داخل ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کا قیام خصوصاً لبنان کیلئے انتہائی اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حزب اللہ کے نمائندوں سے بھی لبنان کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور وہ خطے میں استحکام کے خواہاں ہیں۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مسلسل دباؤ خطے کی سیاست کا اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے سپریم لیڈر سے ممکنہ ملاقات کا ذکر اس بات کا اشارہ ہے کہ پس پردہ سفارتی امکانات بدستور موجود ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
عوامی ردعمل
امریکی اور بین الاقوامی سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
بعض حلقوں نے اسے سفارت کاری اور دباؤ کی مشترکہ حکمت عملی قرار دیا جبکہ بعض صارفین نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات کا اظہار کیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی معاہدے کا براہ راست اثر مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں نئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری اور اعتماد سازی سے ممکن ہے۔ عالمی برادری کی خواہش ہے کہ تمام فریق اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ خطہ کسی نئے بحران سے محفوظ رہ سکے۔
میری رائے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا پائیدار حل صرف مذاکرات میں ہے۔ جنگ یا تصادم کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے سفارتی راستے کو ترجیح دینا ہی دانشمندانہ حکمت عملی ہوگی۔





















