اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار نے ملک میں غربت، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کی سنگین تصویر پیش کر دی ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک جا پہنچی ہے جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران روزگار کی تلاش میں 8 لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل ہو گئے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غربت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو معاشی دباؤ اور بڑھتی مہنگائی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق بلوچستان 47 فیصد شرحِ غربت کے ساتھ ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار پایا ہے۔ خیبرپختونخوا 35.3 فیصد کے ساتھ دوسرے، سندھ 32.6 فیصد کے ساتھ تیسرے جبکہ پنجاب 23.3 فیصد شرحِ غربت کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام آدمی اب بھی معاشی مشکلات، مہنگائی اور محدود روزگار کے مواقع سے شدید متاثر ہے۔
دوسری جانب بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 8 لاکھ پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک گئے جن میں سے 5 لاکھ 30 ہزار افراد نے سعودی عرب کا رخ کیا۔
اسی طرح قطر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 68 ہزار رہی جبکہ متحدہ عرب امارات جانے والوں کی تعداد 52 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ برطانیہ اور عمان جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی۔
تعلیم کے شعبے میں سروے نے نسبتاً بہتر تصویر پیش کی ہے جہاں ملک کی مجموعی شرحِ خواندگی 63 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ایک مثبت اشارہ ہے لیکن تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ہنرمند افرادی قوت بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے۔
توانائی اور صنعتی شعبے کے اعداد و شمار بھی ملا جلا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق قدرتی گیس اور خام تیل کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ کوئلے کی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح لوہے کے خام مال کی پیداوار میں 41 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جسے صنعتی شعبے کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غربت اور بیرون ملک ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات حکومتی معاشی پالیسیوں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ان کے مطابق صرف معاشی اشاریوں میں بہتری کافی نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بھی واضح بہتری آنی چاہیے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اقتصادی سروے نے ملک کی معاشی صورتحال کا وہ رخ بھی سامنے رکھا ہے جو اکثر سرکاری بیانات میں نمایاں نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ غربت میں اضافہ اور لاکھوں افراد کا بیرون ملک جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ روزگار، آمدنی اور زندگی کے معیار کے حوالے سے عوام اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اقتصادی سروے کے اعداد و شمار پر شدید بحث جاری ہے۔ بہت سے صارفین نے غربت میں اضافے پر تشویش ظاہر کی جبکہ بعض نے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ غربت میں کمی لائی جا سکے۔
معاشی ترقی کا اصل معیار صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری ہے۔ اگر غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہو تو معاشی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
میری رائے میں اقتصادی سروے کا سب سے اہم نکتہ غربت میں اضافہ اور ہنرمند افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی ہے۔ اگر ملک میں روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بہتر بنائے جائیں تو نہ صرف غربت کم ہو سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ملک کے اندر ہی بہتر مستقبل مل سکتا ہے۔





















