پنجاب میں سیلاب سے 15لاکھ 16ہزار لوگ متاثر، 30افراد جاں بحق ،حکومتی اعداد و شمار

متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81ہزار سے زائد لوگوں ،4لاکھ 5ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

سیلاب نے پورے پاکستان میں خوفناک تباہی مچا دی ہے، دیہات اور شہروں میں گھروں، سڑکوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں تین دریائوں کے سیلابی پانی سے دو ہزار موضع جات اور 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔

ریلیف آپریشن

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔

اداروں کی متحدہ کاوشیں اور امدادی سرگرمیاں

مریم اورنگزیب نے کہا کہ تمام ادارے ایک مٹھی بن کر عوام کی مدد میں سرگرم عمل ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر وزرا، ارکان اسمبلی، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پولیس، سول ڈیفنس سمیت تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

تاریخی ریسکیو آپریشن کی تیزی اور وسائل

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ کے تباہ کن سیلاب میں عوام کی جان بچانے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا گرینڈ ریسکیو آپریشن پوری رفتار، مشینری اور وسائل سے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کی نگرانی اور سیلاب کے اعدادوشمار

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں، امدادی کاموں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں، پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی، تین دریائوں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے ہیں، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے ہیں، 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

محفوظ منتقلی اور ریلیف کیمپس کی فعالیت

انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں۔

مویشیوں کی حفاظت اور ویٹرنری سہولیات

سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لیے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر کشتیوں کی تعداد 808 ہو گئی جو ریسکیو مشن میں شریک ہیں، 36 گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

پیشگی حفاظتی اقدامات کی کامیابی

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا، الحمدللہ، موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے۔

بحالی کی ترجیحات اور مستقبل کی حکمت عملی

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے، ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔

 تجزیہ اور پس منظر

یہ رپورٹ پنجاب حکومت کی طرف سے سیلاب کے بحران سے نمٹنے کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے، جو نہ صرف فوری امدادی اقدامات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی طرف بھی اشارہ دیتی ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی براہ راست نگرانی میں چلنے والا یہ ریلیف آپریشن تاریخی نوعیت کا ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے 36 گھنٹوں میں 68 ہزار سے زائد افراد کو بچایا، جو اداروں کی ہم آہنگی اور تیاری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ریلیف کیمپس، میڈیکل اور ویٹرنری سہولیات کی فراہمی سے متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے، جو حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ پیشگی حفاظتی اقدامات، جیسے تجاوزات کے خلاف آپریشن، نے جانی نقصان کو کم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو ایک پرو ایکٹو اپروچ کی علامت ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کاوشیں پنجاب کو قدرتی آفات سے نمٹنے میں ایک ماڈل صوبہ بنا رہی ہیں، اور ریسکیو ورکرز کو "ہیروز” قرار دینا ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین