ایران امریکا معاہدہ تاحال حتمی نہ ہو سکا، قطر اور پاکستان ثالثی میں متحرک

’’مسودے کا بڑا حصہ مکمل تھا مگر امریکا بار بار مؤقف بدلتا رہا‘‘، ایرانی وزارت خارجہ

تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری و سفارتی معاہدے سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا اور مذاکرات کا عمل بدستور جاری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق متعدد اہم نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن بعض بنیادی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ عالمی میڈیا میں معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے سے متعلق جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ قبل از وقت اور حقیقت سے دور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ابھی کسی حتمی فیصلے کی منظوری نہیں دی اور مذاکراتی عمل میں مزید مشاورت درکار ہے۔

ترجمان کے مطابق معاہدے کے مسودے کا بڑا حصہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا اور کئی اہم نکات پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے بھی پیدا ہو گیا تھا، تاہم امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلی کے باعث مذاکرات کی رفتار متاثر ہوئی اور بعض معاملات دوبارہ زیر بحث لانا پڑے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان سفارتی عمل کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا مستقل اور واضح مؤقف اختیار کرے تو معاہدے تک پہنچنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور امریکی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز کی مجموعی سکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران خطے میں استحکام کا خواہاں ہے لیکن بعض بیرونی اقدامات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

اس تمام سفارتی عمل میں پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی ترجمان نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک فریقین کے درمیان رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قطر ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان کئی حساس معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو فروغ دینے کیلئے متعدد کوششیں کی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔ اس سے علاقائی کشیدگی میں کمی، عالمی منڈیوں میں استحکام اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ دونوں فریق مکمل تعطل سے بچنا چاہتے ہیں لیکن اعتماد کے فقدان اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات خطے کی سیاست کا سب سے اہم سفارتی عمل بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی ممالک بھی کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کیلئے سرگرم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور خطہ مزید کشیدگی سے محفوظ رہے گا۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں استحکام، تیل کی عالمی منڈی میں بہتری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کئی برسوں سے عالمی سیاست کا اہم موضوع رہی ہے۔ اگر سفارت کاری کے ذریعے اختلافات کم ہو جائیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

میری رائے میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اس بات کا ثبوت ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری آج بھی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو پورے خطے میں امن اور استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین