لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) منہاج القرآن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام بریڈ فورڈ یوکے میں قائم مدینۃ الزہراء اسلامک سنٹر میں شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سیدنا امام حسین ؑ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مکتب فکر کے علماء حضرات نے شانِ اہل بیت اور سانحہ کربلا کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالی ۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ قاری کامران مسعودی نے تلاوت کی، جبکہ حافظ شرجیل طارق نے بھی قرآن مجید کی آیات پیش کیں۔
اجتماع سے مرکزی خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد افضل سعیدی نے اہلِ بیت اطہار کے فضائل، مقام و مرتبہ اور واقعۂ کربلا کے تاریخی و روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے امت کو اپنے اہلِ بیت سے محبت اور وابستگی کی تعلیم دی۔ قرآن مجید اور اہلِ بیت سے تعلق مسلمانوں کو ہدایت اور حق کے راستے پر قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔

شیخ محمد افضل سعیدی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی علمی، دینی اور تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پوری زندگی حق، عدل اور انصاف کا علم بلند رکھا۔ ان کی بہادری، حکمت اور دینِ اسلام سے وفاداری مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بلند مقام، صبر، عبادت اور حضور نبی اکرم ﷺ کی ان سے محبت کا بھی ذکر کیا۔
شیخ محمد افضل سعیدی نے کہا کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما حضور نبی اکرم ﷺ کے محبوب نواسے اور جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ ان کی زندگیاں صبر، استقامت، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے مکمل اطاعت کا درس دیتی ہیں۔

علامہ عدیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کربلا کا پیغام کسی ایک زمانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان امتیاز کا معیار ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اور خاندان کی قربانی دے کر ثابت کیا کہ حق کی حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔
اجتماع کے دوران اعجاز چشتی، قاری مبشر اور حافظ محمد طاہر نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کیا، جسے شرکا نے عقیدت سے سنا۔
تقریب کی نظامت علامہ فضل الرحمن نے کی۔ انہوں نے مختلف مقررین اور نعت خواں حضرات کو دعوتِ خطاب دی اور اجتماع کی کارروائی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔
کانفرنس کے اختتام پر اُمت مسلمہ کے لئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔





















