واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت اور طنزیہ انداز اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے باعث مذاکراتی عمل ایک ہفتے کے لیے روک دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا میں امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے چین ہے اور وہ کسی بھی طرح ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران پر بھرپور دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے احترام میں مذاکراتی عمل کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے انہیں آخری رسومات کے لیے ایک ہفتے کی چھٹی دی، کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے اپنی تقریر کے دوران امریکا کی عسکری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ نے امریکا کے دشمنوں کو تاریخ کے صفحات میں دفن کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے دنیا کی سب سے مضبوط اور جدید فوج تیار کی، دو عالمی جنگوں میں کامیابی حاصل کی اور ہمیشہ اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔
عالمی تنازعات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا کو ایک ہی دن میں شکست دی جبکہ ایران کو بھی مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق ایران اب دوبارہ آباد ہونے، اپنی معیشت بحال کرنے اور عالمی سطح پر معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ان کی انتخابی مہم اور خارجہ پالیسی کے سخت مؤقف کا تسلسل ہیں۔ وہ اکثر اپنی تقاریر میں امریکا کی عسکری برتری اور اپنی حکومت کے فیصلوں کو نمایاں کرتے ہوئے مخالف ممالک کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے حامیوں میں جوش پیدا ہوتا ہے، تاہم ناقدین اسے سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ہر سفارتی پیش رفت عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات وقتی طور پر سیاسی ماحول کو ضرور متاثر کرتے ہیں، تاہم اصل اہمیت عملی مذاکرات، سفارتی اقدامات اور سرکاری معاہدوں کی ہوتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی منفرد سیاسی حکمت عملی کے تحت اکثر ایسے بیانات دیتے ہیں جو عالمی میڈیا میں فوری توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں حالیہ بیان بھی اسی انداز کا تسلسل ہے، تاہم بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار بیانات سے زیادہ عملی سفارت کاری، مذاکرات اور دونوں ممالک کے سرکاری فیصلوں پر ہوتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے اس بیان پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین نے اسے سیاسی طنز اور انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو حساس بین الاقوامی معاملات پر زیادہ محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے امریکی طاقت کا اظہار قرار دیا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں اس نوعیت کے سخت بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن دیرپا استحکام کے لیے سفارتی مذاکرات، اعتماد سازی اور عملی اقدامات ہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں امن کا انحصار فریقین کے عملی فیصلوں پر ہوگا، نہ کہ صرف عوامی بیانات پر۔
بین الاقوامی سیاست میں رہنماؤں کے بیانات اکثر سرخیاں ضرور بنتے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عالمی تنازعات کا مستقل حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی اعتماد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حساس معاملات پر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اختیار کی جائے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔
میری رائے میں عالمی رہنماؤں کے سخت یا طنزیہ بیانات وقتی طور پر سیاسی فائدہ ضرور دے سکتے ہیں، لیکن ان کی اصل اہمیت اس وقت بنتی ہے جب ان کے ساتھ عملی سفارتی اقدامات بھی موجود ہوں۔ امریکا اور ایران جیسے حساس تعلقات میں پائیدار امن کا انحصار بیانات سے زیادہ مذاکرات اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔





















