لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین )پاکستان میں کاروبار کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہزاروں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن نے معیشت کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کے لیے ملازمت، کاروبار اور آگے بڑھنے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے کارپوریٹ شعبے میں نمایاں وسعت دیکھنے میں آئی اور مجموعی طور پر 43 ہزار 559 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ رہی۔ اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ ایک ہزار 615 تک پہنچ گئی ہے۔
جون 2026 کے دوران کمپنیوں کے اندراج کا ماہانہ ریکارڈ بھی قائم ہوا۔ صرف ایک ماہ میں 4 ہزار 323 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو پاکستان میں کسی بھی ایک مہینے کے دوران کمپنیوں کی رجسٹریشن کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے اندراج میں بھی سالانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صوبوں اور مختلف علاقوں کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب 22 ہزار 364 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا۔ سندھ میں 6 ہزار 691، خیبر پختونخوا میں 3 ہزار 820، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 585 جبکہ بلوچستان میں 759 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
شرح نمو کے اعتبار سے گلگت بلتستان نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 65 فیصد اضافہ ہوا۔ بلوچستان میں بھی اس شعبے نے تیزی سے ترقی کی اور رجسٹریشن کی شرح میں 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایس ای سی پی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران رجسٹر ہونے والی مجموعی کمپنیوں میں سے 41 فیصد تجارتی شعبے سے وابستہ تھیں۔ یہ تناسب ملک میں تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پذیر رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں قابل ذکر دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے ایک ہزار 14 نئی کمپنیاں رجسٹر کروائیں، جن کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ ڈھائی ارب روپے رہا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ تجارت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آیا۔ سب سے زیادہ کمپنیاں چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے قائم کی گئیں، جبکہ امریکا، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور اسپین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں نئی کمپنیوں کے قیام کے لیے سرمایہ لگایا۔
روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ملکی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اعتماد کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ ایک سال کے دوران 43 ہزار سے زائد کمپنیوں کا قیام اور مجموعی تعداد کا تین لاکھ سے تجاوز کرنا نہ صرف نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ روزگار، ٹیکس آمدن اور معاشی دستاویز بندی کے لیے بھی حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
جون میں ریکارڈ تعداد میں کمپنیوں کی رجسٹریشن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کاروباری افراد رسمی اور قانونی نظام کا حصہ بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اور بلوچستان جیسے نسبتاً کم ترقی یافتہ علاقوں میں بلند شرح نمو علاقائی معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی امید پیدا کرتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ایک ہزار سے زائد کمپنیوں کا قیام بھی پاکستان کی مارکیٹ، معدنی وسائل اور آئی ٹی شعبے میں موجود امکانات پر اعتماد کا اظہار ہے۔ تاہم اس مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نئی کمپنیوں کو آسان ٹیکس نظام، سستی توانائی، مؤثر قوانین، کاروبار دوست پالیسیوں اور مالی سہولتوں تک رسائی فراہم کی جائے۔ اگر رجسٹریشن میں ہونے والا یہ اضافہ عملی کاروباری سرگرمی، پیداوار اور روزگار میں تبدیل ہو گیا تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔





















