مودی کی ساکھ میرے خلاف پروپیگنڈے سے بحال نہیں ہو سکتی، خواجہ آصف

بھارت ذاتی حملوں اور پروپیگنڈے سے حقائق نہیں بدل سکتا، مودی عالمی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر دفاع

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی جانب سے اپنے خلاف چلائی جانے والی مبینہ پروپیگنڈا مہم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی حملوں، کردار کشی یا انہیں ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دینے کی کوششوں سے نہ تو حقیقت تبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گرتی ہوئی سیاسی اور سفارتی ساکھ بحال ہو سکتی ہے۔

وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے، تاہم اس قسم کے اقدامات سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بیانیہ گھڑنے اور مخالف آوازوں کو نشانہ بنانے کے بجائے بھارت کو اپنے داخلی اور خارجی چیلنجز پر توجہ دینی چاہیے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران ناکامی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مودی حکومت اپنی کمزور ہوتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے، لیکن پاکستان یا اس کی قیادت کے خلاف مہم چلانے سے یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کے خلاف ذاتی نوعیت کے حملے یا ذہنی صحت سے متعلق الزامات لگانا دراصل سیاسی بحث کا معیار گرانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی مہمات سے نہ تو سچائی تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی نریندر مودی کو ملنے والے بعض بین الاقوامی اعزازات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق راہول گاندھی کا مؤقف ہے کہ ان میں سے بعض اعزازات یا تو مصنوعی انداز میں تخلیق کیے گئے یا پھر انہیں ایک منظم تشہیری مہم کے ذریعے غیر معمولی حیثیت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تشہیری مہم کا مقصد مودی کو ایک عالمی مدبر رہنما کے طور پر پیش کرنا تھا، تاہم بین الاقوامی سطح پر ان کی شبیہ اس انداز میں مضبوط نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

وزیر دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں بھی مودی کو ملنے والے بعض اعزازات کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بیرون ملک تعریف اور اعزازات حاصل کرنے کی کوششیں دراصل بھارت میں کمزور ہوتی سیاسی مقبولیت کو سہارا دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث دونوں ممالک کی سیاسی قیادت ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتی رہی ہے۔ حالیہ بیانات بھی اسی سفارتی اور سیاسی ماحول کا تسلسل سمجھے جا رہے ہیں، جہاں دونوں جانب سے بیانیے کی جنگ مسلسل جاری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سیاسی بیانات ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا نے اس بیانیے کی شدت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات صرف داخلی سیاست ہی نہیں بلکہ سفارتی ماحول پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر خواجہ آصف کے بیان پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض صارفین نے وزیر دفاع کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے بھارت کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ الزام تراشی کے بجائے باہمی مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کیے جائیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظی جنگ نئی بات نہیں، تاہم دونوں جوہری طاقتوں کے لیے کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کا فروغ خطے کے امن کے لیے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بیانات سے زیادہ اہمیت عملی سفارت کاری اور اعتماد سازی کے اقدامات کی ہوتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار الزام تراشی سے زیادہ مؤثر سفارت کاری پر ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کو ایسے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عوامی مفاد کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں۔

میری رائے میں سیاسی رہنماؤں کے سخت بیانات وقتی طور پر سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت جیسے حساس تعلقات میں دیرپا بہتری صرف بامعنی مذاکرات، سفارتی رابطوں اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عوامی بیانات کے ساتھ حقائق، شواہد اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین