امریکا اور ایران میں جنگ شدت اختیار کر گئی، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن / تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے پورے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران پر حالیہ حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی مال بردار بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا اور سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی فضائی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے کے پیش نظر ملکی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے اور دفاعی نظام ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے مسلسل کارروائی کر رہا ہے۔

ادھر قطر نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہائی سکیورٹی الرٹ نافذ کرتے ہوئے حساس تنصیبات اور اہم مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا اور خطے میں بحری سلامتی برقرار رکھنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس نوعیت کے حملے دوبارہ ہوئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں عسکری اور سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں میں اضافہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک نے سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر صارفین نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجی خطہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی منڈی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کا تسلسل ضروری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی دیرپا استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

میرا تبصرہ

میری رائے میں موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور ہر نئی فوجی کارروائی مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں تصدیق شدہ معلومات، تحمل اور سفارتی کوششیں ہی خطے کو بڑے تصادم سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین