ہوا سے بھرے ببل وارپ پھوڑنے سے ذہنی سکون کیوں ملتا ہے؟ ماہرین نفسیات نے اہم وجہ بتادی

بلبلے پھوڑتے وقت انسان کو ایک ہی لمحے میں کئی طرح کے احساسات حاصل ہوتے ہیں

لاہور( خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پارسل کھولتے ہی اگر آپ کی نظریں سامان سے پہلے بلبلہ دار پلاسٹک (پاپنگ ببل وارپ)پر جم جاتی ہیں اور انگلیاں بے اختیار اس کے بلبلے پھوڑنے لگتی ہیں تو اس عادت پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق بظاہر معمولی دکھائی دینے والی یہ سرگرمی دماغ کو سکون پہنچانے اور تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ہوا سے بھرے چھوٹے چھوٹے بلبلوں کو انگلیوں سے دبانا اور ان کے پھٹنے کی آواز سننا محض تفریح نہیں بلکہ ایک ایسا حسی تجربہ ہے جو ذہنی دباؤ میں کمی اور خوشگوار احساس پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بلبلے پھوڑتے وقت انسان کو ایک ہی لمحے میں کئی طرح کے احساسات حاصل ہوتے ہیں۔ انگلیوں پر دباؤ محسوس ہوتا ہے، کانوں کو مخصوص آواز سنائی دیتی ہے اور آنکھوں کے سامنے بلبلہ اپنی شکل کھو دیتا ہے۔ لمس، آواز اور منظر کا یہ مشترکہ تجربہ ذہن کو دوسری پریشانیوں سے ہٹا کر ایک محدود سرگرمی پر مرکوز کر دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلبلہ پھوٹنے کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہونے کے باوجود دماغ ہر بار اس لمحے کا انتظار کرتا ہے۔ جب متوقع آواز سنائی دیتی ہے تو انسان کو ایک مختصر کامیابی اور تکمیل کا احساس حاصل ہوتا ہے، جو خوشی اور اطمینان سے متعلق دماغی نظام کو متحرک کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بلبلہ دار پلاسٹک ہاتھ میں آتے ہی اسے مکمل طور پر پھوڑے بغیر چھوڑ نہیں پاتے۔ اس عمل میں ترتیب، تسلسل اور فوری نتیجہ موجود ہوتا ہے، جس کے باعث ذہن کو عارضی طور پر بے چینی اور روزمرہ کے دباؤ سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار دہرائی جانے والی سادہ سرگرمیاں انسان کے اعصاب کو پرسکون کر سکتی ہیں۔ بلبلے پھوڑنے کے علاوہ نرم گیند دبانا، بُنائی کرنا، انگلیوں سے کسی چیز کو مسلسل حرکت دینا یا دوسرے ہلکے پھلکے کام بھی توجہ بہتر بنانے اور ذہنی تھکن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات ڈینیل برلائن کے نظریے کے مطابق انسان کا دماغ ایسی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی برقرار رکھتا ہے جن کا نتیجہ یقینی ہو۔ بلبلہ پھوٹنے سے پہلے پیدا ہونے والی توقع اور پھر اسی نتیجے کی تصدیق دماغ کو مختصر مگر مسلسل مصروفیت فراہم کرتی ہے۔

کھیل اور انسانی رویوں کے ماہر اسٹیورٹ براؤن کے مطابق کھیل کود اور خوشی دینے والی معمولی سرگرمیاں صرف بچوں کی ضرورت نہیں ہوتیں۔ بالغ افراد بھی ایسی سرگرمیوں کے ذریعے ذہنی تازگی، مثبت جذبات اور جذباتی توازن حاصل کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں نظریۂ خود اختیاری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسان ہر کام کسی انعام، مالی فائدے یا بیرونی مقصد کے لیے نہیں کرتا۔ بعض سرگرمیاں صرف اس لیے دہرائی جاتی ہیں کیونکہ ان سے اندرونی خوشی، سکون اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بلبلہ دار پلاسٹک کے بلبلے پھوڑنے کی خواہش غیر سنجیدگی، کم عمری یا ذہنی ناپختگی کی علامت نہیں۔ یہ ایک بے ضرر اور فطری عادت ہے جو مختصر وقت کے لیے ذہنی دباؤ گھٹانے، توجہ بحال کرنے اور جذبات کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین