ویب ڈیسک (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، جبکہ کئی علاقوں میں بارش اور نالوں کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔
شدید بارش کے بعد نالہ لئی اور اس سے منسلک نالوں میں پانی کی سطح ایک موقع پر 20 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے بعد خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔
متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی داخل
چکلالہ کنٹونمنٹ کے علاقوں ڈھوک کالا خان، ممتاز ٹاؤن، بنارس ٹاؤن اور افضل ٹاؤن میں صورتحال زیادہ خراب رہی، جہاں بارش اور نالوں کا پانی گلیوں کے ساتھ گھروں میں بھی داخل ہوگیا۔
ممتاز ٹاؤن سمیت متاثرہ علاقوں کے درجنوں گھروں میں 6 فٹ تک پانی داخل ہونے سے گاڑیوں، فرنیچر اور الیکٹرانک سامان کو نقصان پہنچا۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالتے رہے۔
اہم شاہراہوں پر بھی پانی جمع
شدید بارش کے باعث راولپنڈی کی متعدد اہم شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہوگیا۔
اسلام آباد میں 146 ملی میٹر بارش ریکارڈ
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق اسلام آباد میں سب سے زیادہ بارش گولڑہ کے مقام پر 146 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ راولپنڈی میں واسا نے رین ایمرجنسی نافذ کردی۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے نشیبی علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھی گئی اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
صورتحال اب قابو میں ہے
بارش کا زور ٹوٹنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہونا شروع ہوگئی، جس کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آنے لگی۔
تاہم حالیہ شدید بارش نے ایک بار پھر راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل اور سیلابی صورتحال کے خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی شدید بارش نے شہری سیلاب کے خطرے کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔ خصوصاً نالہ لئی سے ملحقہ آبادیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث بروقت انتظامات اور شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی انتہائی اہم ہوتی ہے۔
عوامی رائے
متاثرہ علاقوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار شدید بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے گھروں اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔ شہریوں نے نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور مستقل بنیادوں پر سیلابی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق موسلادھار بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے نالوں کے اطراف آبادیوں میں رہنے والے افراد کو موسم کی پیشگی اطلاعات پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ نکاسی آب کے مؤثر نظام اور بروقت وارننگ سے نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں حالیہ بارش نے واضح کردیا ہے کہ شدید موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں بلکہ نکاسی آب کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
میری رائے میں شدید بارش قدرتی عمل ہے، تاہم اگر ہر بار نشیبی علاقوں میں گھروں تک پانی پہنچ جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی اور نکاسی آب کے نظام کے لیے بھی ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔ بارش سے پہلے نالوں کی صفائی، بروقت الرٹ اور متاثرہ آبادیوں کے لیے ہنگامی انتظامات نقصانات کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔





















