واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کی موجودہ صدارت کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے طویل ہونے کے خدشات نے امریکی عوام کی تشویش میں بھی اضافہ کردیا ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ 64 فیصد نے ان کی کارکردگی کو مسترد کردیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع امریکی عوام کے ایک بڑے حصے کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے اور بیشتر افراد کا خیال ہے کہ یہ جنگ مختصر مدت میں ختم ہونے کے بجائے طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
80 فیصد امریکی جنگ طویل ہونے کے خدشے میں
سروے میں شامل 80 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
ان میں 87 فیصد ڈیموکریٹس اور 71 فیصد ریپبلکنز بھی شامل ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کے طویل ہونے کا خدشہ صرف ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔
صرف 16 فیصد افراد نے رائے دی کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع چند ہفتوں میں ختم ہوسکتا ہے۔
سروے میں 1166 امریکیوں کی رائے شامل
رائٹرز کے مطابق یہ سروے چار روز کے دوران آن لائن کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 1166 امریکی بالغ افراد نے حصہ لیا۔
سروے کے نتائج میں غلطی کا ممکنہ تناسب تقریباً 3 فیصد بتایا گیا ہے۔
ٹرمپ کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق مقبولیت میں کمی اور جنگ کے طویل ہونے کے خدشات صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں اگر تنازع مزید طویل ہوتا ہے تو امریکی عوام کی رائے، ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے حکومت پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق تازہ سروے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران جنگ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سیاسی اور معاشی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ تاہم صرف ایک سروے کی بنیاد پر صدر کی مجموعی سیاسی صورتحال کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
عوامی رائے
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلد خاتمے کے حوالے سے پُرامید نہیں۔ 80 فیصد افراد کا جنگ کے طویل ہونے کا خدشہ اس معاملے پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران عوامی حمایت میں کمی کسی بھی حکومت کے لیے اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے اور اس کے معاشی یا انسانی اثرات بڑھتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو داخلی سطح پر مزید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور عالمی امن و سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگ کے ممکنہ طویل ہونے سے متعلق امریکی عوام کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میری رائے میں تازہ سروے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی اشارہ ہے۔ اگر ایران کے ساتھ تنازع طویل ہوتا ہے تو امریکی عوام کی رائے مزید اہمیت اختیار کرے گی۔ تاہم صورتحال کا اصل رخ جنگ کے آئندہ نتائج اور سفارتی کوششوں سے واضح ہوگا۔





















