واشنگٹن:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) سعودی عرب پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے واضح طور پر ایران کا کردار نظر آتا ہے۔
مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثی کئی حوالوں سے ایرانیوں کے ایجنٹ اور پراکسی ہیں، اس لیے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ایرانی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سعودی عرب میں ہونے والی صورتحال پر انتہائی قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی اور عسکری تعلقات موجود ہیں اور واشنگٹن خطے میں ہونے والی ہر اہم پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ روبیو کے مطابق موجودہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ کچھ عرصے سے کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔
انہوں نے یمن میں زمینی لڑائی اور حوثیوں کے خلاف یمنی فورسز کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یمنی فورسز حوثیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر کارروائیاں کررہی ہیں اور حوثیوں کی جانب سے زمینی پیش قدمی کی بعض کوششوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی کے مطابق حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سعودی حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی وزارتِ توانائی نے بھی بتایا ہے کہ جنوبی علاقوں میں توانائی کے شعبے سے متعلق متعدد تنصیبات کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مقامات پر آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے، جس کے باعث کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔
سعودی اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں کے حملوں کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد ان حملوں کے جواب میں ضروری عملی اقدامات کرے گا اور خطرے کے ذرائع کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ سعودی عرب نے بھی اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں بھی شدت آئی ہے۔ کئی برس تک جاری رہنے والی نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد حالیہ ہفتوں میں مختلف محاذوں پر دوبارہ شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
حوثیوں کا سعودی حملوں کے جواب کا دعویٰ
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں کو یمن میں سعودی حمایت یافتہ کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حوثی گروپ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی کارروائیوں میں یمن کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں سے وابستہ ذرائع کے مطابق صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ شمالی شہر الحزم میں ایک جیل کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، جس میں حوثی حکام کے مطابق ایک بچے سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
یمن میں جاری لڑائی نے ایک مرتبہ پھر انسانی اور علاقائی سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ سعودی عرب کی سرحد کے قریب حوثی حملوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نے بھی عالمی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
ایران کا مبینہ کردار، امریکا کا سخت مؤقف
امریکا حوثیوں کو طویل عرصے سے ایران کے ساتھ منسلک گروپ کے طور پر دیکھتا ہے۔ مارکو روبیو کا تازہ بیان بھی اسی امریکی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں اور کارروائیوں کے پیچھے ایرانی حمایت موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن حوثیوں کے تازہ حملوں کو براہِ راست ایرانی پالیسی سے جوڑتا ہے تو اس سے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کئی محاذ بیک وقت متحرک ہیں، کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود رہنے کا خدشہ نہیں۔
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ابہا، خمیس مشیط اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانا سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یمن کے تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان نے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے جائز حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کا خدشہ
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔ سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ خطے میں توانائی کی سپلائی پہلے ہی متعدد خطرات سے دوچار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات بحیرہ احمر اور باب المندب کی بحری گزرگاہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملے خطے کی پہلے سے پیچیدہ صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے معاملہ صرف فوجی تنازع تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکا کا ایران کو حوثیوں کے حملوں سے جوڑنا بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر واشنگٹن نے ان حملوں کو ایرانی پالیسی کا براہِ راست حصہ قرار دے کر مزید اقدامات کیے تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
عوامی رائے
خطے کے عوام کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ جاری تنازعات مزید پھیل کر ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل نہ ہوجائیں۔ سعودی عرب جیسے اہم ملک کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں سے عام شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ روزگار، توانائی اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں بھی سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کے باعث حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کی خواہاں ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یمن کی جنگ اب صرف زمینی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بحیرہ احمر کی بحری تجارت اور عالمی توانائی کی منڈی تک پہنچ رہے ہیں۔
اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب کی جانب سے جوابی کارروائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ایران کے مبینہ کردار پر امریکی دباؤ بھی مزید بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال پورے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت خطے کے امن کے لیے مثبت پیش رفت نہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
امریکا، ایران، سعودی عرب اور یمن کے تمام متعلقہ فریقوں کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ ایک محاذ پر بڑھنے والی کشیدگی دوسرے محاذوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ خطے میں امن کے لیے سفارتی راستہ دوبارہ فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ 73 افراد کا زخمی ہونا اور توانائی کی تنصیبات کا متاثر ہونا کسی معمولی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
امریکا کی جانب سے ایران کو ان حملوں سے جوڑنے کا بیان بھی آنے والے دنوں کے لیے اہم ہے۔ اگر یہ معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں مزید اضافہ کرتا ہے تو اس کے اثرات سعودی عرب، یمن اور بحیرہ احمر سے کہیں آگے جاسکتے ہیں۔
میری رائے میں موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تحمل اور سفارتی کوششوں کی ہے۔ فوجی کارروائی کا ایک سلسلہ دوسرے حملے کو جنم دے سکتا ہے، جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستے متاثر ہونے سے اس بحران کی قیمت عام شہری اور عالمی معیشت دونوں ادا کرسکتے ہیں۔
نوٹ: اس رپورٹ میں امریکا، سعودی عرب، پاکستان اور حوثیوں کے مؤقف کو متعلقہ فریقین کی جانب منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ ایران کے کردار سے متعلق امریکی مؤقف کو حتمی عدالتی یا آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔





















