تحریر: ایم اے زیب رضا خان
ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی بے بسی لے کر داخل ہوتا ہے اور کسی دوسرے انسان کے علم، مہارت اور نظام پر اپنا اعتماد رکھ دیتا ہے۔ بیمار شخص ڈاکٹر کے ہاتھ میں صرف اپنا علاج نہیں، اپنی زندگی بھی سونپتا ہے۔ والدین اپنے بچے کو ہسپتال کے بستر پر لٹاتے ہوئے یہ سوال نہیں کرتے کہ عمارت کتنی محفوظ ہے، فائر الارم کام کرتا ہے یا نہیں، ایمرجنسی دروازہ کھلتا ہے یا نہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ جس جگہ زندگی بچانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہاں زندگی کی حفاظت کا انتظام بھی مکمل ہوگا۔
پمز کے سانحے نے اسی یقین کو زخمی کیا ہے۔
آگ کے شعلے چند لمحوں کے مہمان ہوتے ہیں، مگر ان سے پیدا ہونے والے سوال برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا افسوسناک واقعہ اب محض ایک حادثے کی خبر نہیں رہا؛ یہ ہمارے ہسپتالوں کے حفاظتی نظام، انتظامی نگرانی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کا امتحان بن چکا ہے۔
سب سے زیادہ دل چیر دینے والا پہلو وہ معصوم زندگیاں ہیں جو اس جگہ محفوظ سمجھی جا رہی تھیں جہاں انہیں علاج ملنا تھا۔ ان بچوں کے والدین پر جو قیامت گزری، اسے الفاظ میں بیان کرنا شاید ممکن ہی نہیں۔ ایک والدین کے لیے اپنے بیمار بچے کو ہسپتال کے حوالے کرنا پہلے ہی اضطراب کا لمحہ ہوتا ہے؛ اگر اسی جگہ سے بچے کی میت واپس آئے تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا سوال ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے اسی پس منظر میں آزادانہ، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ محض ایک سیاسی ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں ایک بنیادی سوال پوشیدہ ہے: کیا ہم حادثے کی وجہ تلاش کریں گے یا اس نظام کی کمزوریاں بھی تلاش کریں گے جنہوں نے حادثے کو سانحہ بننے دیا؟
یہ دونوں چیزیں ایک نہیں۔
تحقیق کا اصل مرکز یہی ہونا چاہیے کہ آگ لگنے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟ آکسیجن کی موجودگی نے شعلوں کے پھیلاؤ کو کس طرح متاثر کیا؟ وارڈ کے دروازوں کی حالت کیا تھی؟ مریضوں کے انخلا کے لیے راستے کتنے مؤثر تھے؟ فائر سیفٹی آلات موقع پر موجود تھے اور قابلِ استعمال بھی تھے؟ ہسپتال کا عملہ ایسی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ تھا؟ امدادی کارروائی کتنی دیر میں شروع ہوئی؟ اور اس دوران کون سی رکاوٹیں سامنے آئیں؟
یہ سوالات کسی ایک شخص کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ اس حقیقت تک پہنچنے کے لیے ہیں کہ ایک ہسپتال، جو زندگی کو تحفظ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے، چند لمحوں میں اپنے کمزور ترین حصے تک کیسے پہنچ گیا۔
حادثات ہمیشہ کسی ایک لمحے میں رونما ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے راستہ اکثر بہت پہلے تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ کبھی ایک غیر فعال الارم، کبھی بند ایمرجنسی راستہ، کبھی ناقص بجلی کا نظام، کبھی تربیت سے محروم عملہ، کبھی نگرانی میں معمولی سی کوتاہی, یہ چھوٹی دکھائی دینے والی کمزوریاں کسی بڑے سانحے کے وقت ایک دوسرے سے مل کر تباہی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
سانحے کے بعد چند اہلکاروں کی معطلی خبر ضرور بن سکتی ہے، مگر قوم کے بنیادی سوال کا جواب نہیں۔ اگر ایک فرد کی غفلت تھی تو اس فرد کا احتساب ہونا چاہیے۔ لیکن اگر حفاظتی نظام ہی کمزور تھا تو پھر ذمہ داری کا دائرہ بھی اسی نسبت سے وسیع ہونا چاہیے۔
یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فائر سیفٹی کا معائنہ کب ہوا تھا، خامیوں کی نشاندہی ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو انہیں دور کیوں نہیں کیا گیا، ہنگامی راستے کس حالت میں تھے، آکسیجن نظام کے حفاظتی تقاضے پورے کیے جا رہے تھے یا نہیں، عملے کو کتنی بار عملی تربیت دی گئی اور ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے میں مریضوں کی سلامتی کی نگرانی کس سطح پر ہوتی تھی۔
ایک سانحہ صرف یہ نہیں بتاتا کہ کون موجود تھا؛ یہ بھی بتاتا ہے کہ کون اپنی ذمہ داری کی جگہ پر موجود نہیں تھا۔
خرم نواز گنڈاپور کی جانب سے ملک بھر کے ہسپتالوں کے تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ کا مطالبہ اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اپنے نظام کا جائزہ خود لینا اکثر ہمیں اپنی خامیوں کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں ہونے دیتا۔ آزاد ماہرین پر مشتمل تھرڈ پارٹی آڈٹ اس خلا کو پُر کر سکتا ہے۔
لیکن آڈٹ بھی صرف فائلوں کا کھیل نہ بنے۔ یہ دیکھا جائے کہ فائر الارم حقیقتاً کام کرتا ہے یا صرف دیوار پر نصب ہے۔ یہ دیکھا جائے کہ ایمرجنسی ایگزٹ واقعی کھلتا ہے یا اس کے سامنے سامان رکھا ہوا ہے۔ یہ دیکھا جائے کہ فائر فائٹنگ آلات استعمال کے قابل ہیں یا صرف ان کی تاریخِ تنصیب درج ہے۔ یہ دیکھا جائے کہ عملہ ہنگامی صورتحال میں چند منٹوں کے اندر فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھا جائے کہ اگر کسی وارڈ میں آگ لگ جائے تو وہاں موجود وہ مریض، جو خود چلنے کی حالت میں نہیں، اسے کتنی دیر میں محفوظ مقام تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
سیفٹی کا معیار کاغذ پر درج نہیں ہوتا؛ وہ بحران کے چند منٹوں میں سامنے آتا ہے۔
ہم ہسپتالوں میں نئی عمارتیں دیکھتے ہیں، نئی مشینیں دیکھتے ہیں، خوبصورت استقبالیہ دیکھتے ہیں، مگر مریض کی حفاظت کا وہ غیر محسوس نظام اکثر ہماری توجہ سے اوجھل رہتا ہے جس پر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پوری عمارت کی کارکردگی منحصر ہوتی ہے۔
ہسپتال کی اصل قدر اس کے ماربل، شیشے اور مشینری میں نہیں؛ اس یقین میں ہونی چاہیے کہ یہاں داخل ہونے والا مریض کسی اضافی خطرے کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
بالخصوص بچوں کے وارڈ، انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور آکسیجن استعمال کرنے والے شعبوں میں حفاظتی معیار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں ایک مریض کے لیے چند منٹ بھی بہت قیمتی ہوتے ہیں۔
اس لیے فائر ڈرل کوئی رسمی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے۔ ایمرجنسی ایگزٹ کوئی آرائشی دروازہ نہیں ہونا چاہیے۔ فائر الارم محض سرکاری چیک لسٹ کی ایک خانہ پُری نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سب اس وقت معنی رکھتے ہیں جب زندگی خطرے میں ہو۔
سانحے کی آزادانہ تحقیقات کے بعد رپورٹ عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا، حفاظتی انتظامات میں کہاں کمزوری تھی اور کس سطح پر اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی۔
لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہوا، کیوں ہوا اور آئندہ اسے روکنے کے لیے کیا بدلا جائے گا۔
شفاف تحقیق کا مطلب صرف ذمہ داروں کے نام جاری کرنا نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ پورا سلسلہ سامنے آئے: حادثہ کہاں شروع ہوا، نظام کہاں کمزور پڑا، ردعمل میں کہاں رکاوٹ آئی اور کون سی اصلاحات فوری طور پر ضروری قرار دی گئیں۔
پاکستان میں ہسپتالوں کی سیفٹی کے حوالے سے مختلف سطحوں پر قواعد و ضوابط موجود ہیں، مگر سوال ان کے نفاذ اور مسلسل نگرانی کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں کے لیے مریضوں کی حفاظت کا ایسا مربوط نظام وضع کیا جائے جس میں فائر سیفٹی، آکسیجن سیفٹی، بجلی کے نظام، ایمرجنسی انخلا، عملے کی تربیت اور باقاعدہ عملی مشقوں کو ایک ہی حفاظتی فریم ورک کا حصہ بنایا جائے۔
ہر ہسپتال کا حفاظتی آڈٹ ہو، ہر حساس وارڈ کی الگ جانچ ہو، ایمرجنسی انخلا کی عملی مشق ہو، فائر سیفٹی آلات کی فعالیت کی باقاعدہ تصدیق ہو، آکسیجن سسٹم کا تکنیکی معائنہ ہو اور سامنے آنے والی خامیوں کو محض رپورٹ میں درج کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کی تکمیل بھی یقینی بنائی جائے۔
یہ کسی اضافی آسائش کا معاملہ نہیں۔ مریض کی حفاظت علاج کا بنیادی حصہ ہے۔
پمز کے ان معصوم متاثرین کے نام شاید کبھی ہمارے قومی حافظے سے محو نہ ہوں۔ ان کے والدین کے لیے یہ واقعہ زندگی بھر کا دکھ ہے۔ اس دکھ کے سامنے ریاست، اداروں اور معاشرے کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔
ان خاندانوں کو صرف تعزیتی الفاظ نہیں چاہییں؛ انہیں حقیقت چاہیے، جواب چاہیے اور یہ اطمینان چاہیے کہ ان کے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے سانحے کو ایک انتظامی فائل میں دفن نہیں کیا جائے گا۔
زندگی بچانے والے اداروں میں زندگی کی حفاظت سب سے مقدم ہونی چاہیے۔
پمز کی آگ بجھ چکی ہوگی، مگر اس کے سوال ابھی روشن ہیں۔
ان سوالوں کا جواب کسی پریس ریلیز سے نہیں ملے گا۔ جواب اس دن ملے گا جب ایک ہسپتال کا ہر دروازہ ہنگامی لمحے میں راستہ بنے گا، ہر الارم خطرے کی بروقت خبر دے گا، ہر فائر فائٹنگ آلہ استعمال کے لیے تیار ہوگا، ہر کارکن کو معلوم ہوگا کہ جان بچانے کے لیے کیا کرنا ہے، اور ہر انتظامی افسر یہ سمجھتا ہوگا کہ حفاظتی غفلت بھی انتظامی ناکامی ہی کی ایک صورت ہے۔
کیونکہ ہسپتال میں داخل ہونے والا انسان پہلے ہی زندگی کے امتحان میں ہوتا ہے؛ اسے نظام کی کمزوری کا امتحان نہیں دینا چاہیے۔
پمز کا سانحہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ریاستی نظم و نسق میں انسانی جان کی قدر کہاں کھڑی ہے۔ اگر ایک ہسپتال میں حفاظتی انتظامات محض کاغذی تقاضے بن جائیں تو پھر مسئلہ کسی ایک وارڈ، ایک افسر یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ پورے نظامِ حکمرانی کے اس رویے کی علامت بن جاتا ہے جہاں حادثہ رونما ہونے کے بعد ذمہ دار تلاش کیے جاتے ہیں، مگر حادثے سے پہلے خطرات کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔
یہ طرزِ عمل بدلنا ہوگا۔
ان معصوم بچوں کی خاموش یاد ہمیں یہی تقاضا دے رہی ہے کہ ہسپتالوں کو صرف علاج گاہیں نہیں بلکہ مکمل محفوظ ادارے بنایا جائے۔ ایسا نظام تشکیل پائے جہاں حفاظتی معائنہ معمول ہو، ہنگامی مشقیں حقیقی ہوں، نگرانی آزاد ہو، خامیوں پر فوری کارروائی ہو اور کسی بھی سطح کی غفلت کو معمول کا حصہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔
کیونکہ ایک محفوظ ہسپتال وہ نہیں جس میں حادثہ کبھی نہ ہو؛ محفوظ ہسپتال وہ ہے جہاں حادثہ رونما ہونے کی صورت میں نظام انسانی جان کو آخری لمحے تک بچانے کے لیے پوری قوت سے کھڑا ہو۔
اسکا اک بہترین اور وائرل عنوان نکال دو جو قارئین کو پوری تحریر پڑھنے پر مجبور کر دے





















