لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے کالم اور تحریریں لکھوانے والے یا دیگر مواد تیار کروانے والوں کی شناخت کے لئے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر لیا گیا ہے جس سے فوری پتہ چلا جائے گا کہ لکھاری نے چیٹ جی پی ٹی سے کتنی مدد ملی ہے؟ ایسے واٹر مارک متعارف کروا دئیے گئے ہیں، چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والوں کو تو پتہ نہیں چلے گا تاہم کمپنی بتا سکے گی کتنی مدد لی گئی ہے، اس حوالے سے الفاظ کی شکل میں خفیہ سگنل کے ذریعے پتہ چلا چلا جائے گا۔
پڑھنے میں عام لگنے والی تحریر کے الفاظ میں ایسی پوشیدہ پہچان موجود ہو گی جو بتا دے گی کہ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے ۔ چیٹ جی پی ٹی کے متن میں خفیہ شماریاتی اشارے شامل کرنے سے متعلق سامنے آنے والی خبر نے اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی شناخت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی اس ٹیکنالوجی کو ’ٹیکسٹ گرین‘ (textGrain) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام متن تیار کرتے وقت الفاظ کے انتخاب میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ایک مخصوص شماریاتی نمونہ شامل کرے گا۔ عام قاری کو یہ نمونہ نظر نہیں آئے گا، تاہم مخصوص خودکار نظام اس کی شناخت کرسکیں گے۔
آسان الفاظ میں، یہ تحریر پر لگنے والی کوئی نمایاں مہر نہیں ہوگی، بلکہ لفظوں کے انتخاب میں پوشیدہ نشان ہوگا۔ اس کا مقصد اے آئی سے تیار ہونے والے متن کی پہچان میں مدد دینا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ اقدام یورپی یونین تک محدود ہوگا اور اسے یورپی اے آئی ایکٹ کے تقاضوں سے جوڑا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں اینتھروپک کے ماڈل کلاؤڈ میں بھی اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی شامل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تفصیلات کی اصل اعلانات سے مزید تصدیق ضروری ہے۔
اوپن اے آئی کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، متن کی جانچ کی سہولت فی الحال منظور شدہ اداروں، بشمول علمی اور تحقیقی اداروں، کے لیے دستیاب ہے۔ کمپنی واضح کرتی ہے کہ شناختی نشان نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ مواد لازماً انسان نے لکھا ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شناخت کتنی قابلِ اعتماد ہوگی اور تحریر میں تبدیلی کے بعد بھی کتنی مؤثر رہے گی۔ اے آئی کی تحریر پہچاننے کے لیے پوشیدہ نشان مددگار ہوسکتے ہیں، مگر ان کی عملی افادیت جانچ کے نتائج اور نظام کی حدود واضح ہونے پر ہی سامنے آئے گی۔





















