واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران احتجاج کرنے والی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس بھیج دینا چاہیے‘، جس کے بعد امریکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
خطاب کے دوران جب صدر ٹرمپ اپنی امیگریشن پالیسی اور کریک ڈاؤن کا دفاع کر رہے تھے تو اس موقع پر الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’آپ نے امریکیوں کو قتل کیا ہے‘۔ ایوان میں اس دوران کشیدگی دیکھنے میں آئی اور چند دیگر ڈیموکریٹ ارکان نے بھی احتجاج کیا، جبکہ ایک رکن کو ایوان سے باہر بھیج دیا گیا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر دونوں ارکان کو ’بدعنوان اور کرپٹ سیاست دان‘ قرار دیتے ہوئے ان کے رویے کو غیر مناسب اور امریکا کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
ریاست منی سوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الہان عمر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر کو یاد دلایا کہ ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث ان کے حلقہ انتخاب کے دو افراد ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ رواں برس منی سوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف احتجاج کے دوران دو امریکی شہری وفاقی اہلکاروں کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
رشیدہ طلیب، جو امریکی کانگریس میں فلسطینی نژاد پہلی خاتون رکن ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دو مسلم خواتین کی آواز برداشت نہیں کر سکے۔
اس واقعے کے بعد امریکا میں امیگریشن پالیسی، نسلی بیانات اور سیاسی تقسیم کے موضوعات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکی سیاست میں پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سیاست میں امیگریشن اور شناخت کی سیاست ایک مرکزی موضوع بن چکی ہے۔ ان کے مطابق صدر اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ نہ صرف داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کے سیاسی تاثر کو متاثر کر سکتا ہے۔





















