ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ ہوا تو کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب کی سخت وارننگ

بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں،ترجمان

تہران: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران کی فوجی قیادت نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے محفوظ ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں، اور ایران اس معاملے میں کسی قسم کی یکطرفہ صورتحال قبول نہیں کرے گا۔

امریکی اقدامات پر سخت ردعمل

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں اور انہیں بحری قزاقی کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا عندیہ

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے لیے ایک مستقل نظام نافذ کرنے جا رہا ہے، جس کے تحت سمندری نقل و حرکت کو منظم کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق ایران کے اس بیان کے بعد خلیجی خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمندری راستے ہیں۔

اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کا یہ بیان محض ایک سفارتی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح دفاعی حکمت عملی کا عندیہ بھی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے سمندری مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کا ایک اہم مرکز ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی فوری طور پر عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔

ایران کی جانب سے مکمل کنٹرول کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔

اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ صورتحال عالمی توانائی بحران اور تجارتی رکاوٹوں کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک پر یکساں طور پر پڑیں گے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین