لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایک اہم ترین مطالبہ سامنے رکھا تھا جس کا اظہار ایرانی حکومت کی ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے باعث ملک کو تقریباً 270 ارب ڈالر کا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ بیان ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جاری کیا۔
روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے وضاحت کی کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات کو سامنے رکھ کر لگایا گیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور دیگر شعبوں پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے، اور یہ مسئلہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات میں بھی زیرِ بحث آ چکا ہے۔ ان کے مطابق ہرجانے کا مطالبہ ایران کی پیش کردہ دس نکاتی شرائط کا حصہ ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے انتونیو گوتریس کو ایک خط لکھ کر خلیجی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، امارات اور کویت شامل ہیں، سے بھی جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ اس سے جاری مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے 270 ارب ڈالر کے نقصان کا دعویٰ محض ایک مالی تخمینہ نہیں بلکہ ایک مضبوط سفارتی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس بیان کے ذریعے ایران نہ صرف عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ بھی بڑھانا چاہتا ہے۔ جنگی نقصانات کو اس قدر بڑے حجم میں پیش کرنا دراصل مذاکراتی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں معاشی ریلیف یا پابندیوں میں نرمی حاصل کی جا سکے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب اسے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے جوڑا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران ہرجانے کا مطالبہ شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب صرف دفاعی مؤقف تک محدود نہیں بلکہ وہ جارحانہ سفارتکاری اپناتے ہوئے اپنے نقصانات کا ازالہ بھی چاہتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایک طرف عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا ہے تو دوسری جانب مخالف فریق کو مذاکرات میں رعایت دینے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک سے ہرجانے کا مطالبہ ایک حساس اور پیچیدہ پہلو کو جنم دیتا ہے۔ قطر، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک پہلے ہی خطے میں طاقت کے توازن کا اہم حصہ ہیں، اور ان سے مالی ذمہ داری کا مطالبہ علاقائی تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف سفارتی فاصلے بڑھ سکتے ہیں بلکہ خلیجی اتحاد میں بھی دراڑیں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ان ممالک نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانا ایران کی ایک اور سوچے سمجھے قدم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو عالمی قوانین اور اداروں کے دائرے میں رہ کر پیش کر رہا ہے، جس سے اس کی قانونی حیثیت مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم، عملی طور پر ایسے ہرجانے کے دعووں کو تسلیم کرانا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے، جس میں سیاسی مفادات اکثر قانونی نکات پر غالب آ جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایک جانب یہ مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے تو دوسری جانب طاقت کے توازن کو بھی بدل سکتا ہے۔ اگر یہ معاملہ سنجیدگی سے آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ توانائی، تجارت اور سیکیورٹی جیسے اہم شعبے اس کشیدگی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔





















