اسلام آباد: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)وزیراعظم Shehbaz Sharif کل سعودی عرب کا اہم دورہ کریں گے، جو خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو یہ دعوت سعودی ولی عہد Mohammed bin Salman کی جانب سے دی گئی، جس کے بعد دورے کی تاریخ اور شیڈول کو حتمی شکل دی گئی۔
اس اہم دورے کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی امور، توانائی، سیکیورٹی اور سفارتی تعاون بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے کے بعد جمعرات کو ترکی اور پھر قطر کا بھی دورہ کریں گے، جہاں مختلف ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
یہ مسلسل دورے پاکستان کی جانب سے خطے میں فعال سفارتکاری اور ثالثی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے یہ دورے اسی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی ایک کڑی سمجھے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی تناظر کا حصہ ہے، جہاں پاکستان خود کو ایک اہم ثالث اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ بیک وقت رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک وسیع سفارتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد نہ صرف کشیدگی کو کم کرنا بلکہ خطے میں استحکام کو فروغ دینا بھی ہے۔
اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکتا ہے۔





















