لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل، روس اور امریکا دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
عالمی انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق جاری سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا ماحول، جہاں تشدد اور سخت رویے پروان چڑھ سکیں، طویل عرصے سے تشکیل دیا جا رہا تھا اور اب دنیا میں سفارت کاری کی جگہ جنگ نے لے لی ہے۔
ایمنسٹی کی سیکرٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے کہا کہ بیشتر حکومتیں عالمی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے خاموشی یا مفاہمت کا راستہ اختیار کر رہی ہیں، جبکہ کچھ ممالک نے جارحانہ پالیسیوں کی تقلید بھی شروع کر دی ہے، جس سے شہریوں کے قتل جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بین الاقوامی نظام سے واضح انحراف دیکھنے میں آیا، یہ وہ نظام تھا جو ہولوکاسٹ اور عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد قائم کیا گیا تھا اور گزشتہ 80 برسوں میں بتدریج مضبوط کیا گیا۔
ایگنس کالامارڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویٹو پاور کا غلط استعمال نظام کو غیر مؤثر بنا رہا ہے، انسانی جانوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے، اور حالیہ برسوں میں اس نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں بینجمن نیتن یاہو، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کو شکاری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تینوں رہنما معاشی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی انسانی حقوق کے نظام میں بڑھتی ہوئی دراڑوں اور طاقت کے توازن میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ سالانہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصول کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور طاقتور ریاستیں اپنے سیاسی و عسکری مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاست کا ایک نمایاں رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ سفارت کاری کی جگہ تنازعات اور جنگی حکمت عملیوں نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری اس عمل کا نتیجہ ہے جس میں عالمی اداروں کی ساکھ اور ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے کمزور ممالک کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے جبکہ طاقتور ریاستیں زیادہ آزادانہ انداز میں اپنی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسا ماحول تشکیل پا چکا ہے جہاں سخت اور جارحانہ رویے معمول بنتے جا رہے ہیں، وہ دراصل عالمی نظام کے توازن میں پیدا ہونے والی اس خرابی کو ظاہر کرتا ہے جس میں انسانی حقوق ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کی اموات اور انسانی نقصان کو بعض اوقات اس حد تک نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک معمول کی خبر بن کر رہ گیا ہے، جو عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
خاص طور پر سلامتی کونسل کے کردار پر جو تنقید کی گئی ہے، وہ بھی اہم ہے۔ ویٹو پاور کے مسلسل اور متنازع استعمال نے اس ادارے کی فعالیت کو محدود کر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کئی اہم عالمی تنازعات پر مؤثر اور بروقت فیصلے نہیں ہو پا رہے، جس سے بحران مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بنیادی تصور کے برعکس ہے جس پر اقوام متحدہ کا نظام قائم کیا گیا تھا، یعنی عالمی امن اور انصاف کا فروغ۔
اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 2025 میں عالمی نظام میں جو انحراف دیکھا گیا ہے، وہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط کمزور ہوتی ہوئی عالمی حکمت عملیوں کا تسلسل ہے۔ دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ جیسے سانحات کے بعد جو عالمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا تھا، اس کا مقصد ایسے واقعات کی روک تھام تھا، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مقصد کمزور پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں چند عالمی رہنماؤں کے حوالے سے جو سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر قیادت کے کردار پر شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ انہیں "شکاری” قرار دینا اس تاثر کو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا استعمال زیادہ جارحانہ اور مفاداتی ہوتا جا رہا ہے، جہاں معاشی اور سیاسی غلبہ حاصل کرنا بنیادی ہدف بن چکا ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ رپورٹ صرف تنقید نہیں بلکہ ایک انتباہ بھی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر عالمی برادری نے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور سفارتی اصولوں کو دوبارہ مضبوط نہ کیا تو دنیا مزید عدم استحکام اور تنازعات کی طرف جا سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی ادارے اپنی ساکھ بحال کریں، بڑی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اور انسانی جان کی قدر کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی جائے۔ بصورت دیگر موجودہ رجحانات ایک ایسے عالمی نظام کی طرف لے جا سکتے ہیں جہاں انصاف اور امن کے تصورات محض کتابی باتیں رہ جائیں گے۔





















