آبنائے ہرمز میں ایران کا بڑا اقدام، دو جہازوں پر قبضہ، کشیدگی میں اضافہ

کارروائی کے بعد دونوں جہازوں کو ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے اہم عالمی گزرگاہ Strait of Hormuz میں دو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس بنیاد پر تحویل میں لیا گیا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا، اور کارروائی کے بعد دونوں جہازوں کو ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس اہم سمندری راستے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع Pentagon نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو جاتی ہے، جبکہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی فوری طور پر شروع ہونے کا امکان کم ہے اور اس کا دارومدار امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، قیمتوں اور معاشی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی ہر پیش رفت کو دنیا بھر میں انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری راستوں پر کنٹرول اب جدید جغرافیائی سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے، جہاں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین