ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن

اگر یہ شرائط تسلیم کر لی جائیں تو جوہری پروگرام پر بات چیت آگے بڑھائی جا سکتی ہے،ایران

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)واشنگٹن سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز پر امریکی ردعمل سرد رہا ہے، جبکہ امریکی صدر Donald Trump کو ان تجاویز پر غیر مطمئن قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مذاکراتی عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کی تجاویز میں جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں، جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جا رہی ہے اور اس پیش رفت کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائیں، جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے، جبکہ تہران نے Strait of Hormuz کو کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جو اس وقت عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط تسلیم کر لی جائیں تو جوہری پروگرام پر بات چیت آگے بڑھائی جا سکتی ہے، تاہم اس کیلئے امریکا کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا، جو واشنگٹن کیلئے ایک حساس اور متنازع معاملہ ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران اپنے ایٹمی عزائم ترک نہیں کرتا، اس وقت تک مذاکرات کو بامعنی نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایران براہ راست رابطہ کرنا چاہے تو امریکی رابطہ ذرائع محفوظ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، جس کے باعث مذاکرات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور کسی بھی بڑی پیش رفت کیلئے اعتماد سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر اصل رکاوٹیں ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہیں، اور کسی بھی حتمی معاہدے کیلئے دونوں فریقین کو لچک دکھانا ہوگی

متعلقہ خبریں

مقبول ترین