اسلام آباد: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان روشن ہو گیا ہے، کیونکہ ملک نے پروگرام کے تحت درکار تمام شرائط مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں پاکستان کیلئے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری متوقع ہے، جبکہ موسمیاتی پروگرام کے دوسرے جائزے پر بھی غور کیا جائے گا، جو ملک کیلئے مزید مالی سہولت کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان عملے کی سطح کا معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے، جس کے بعد اب حتمی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اور اگر یہ قسط جاری ہو جاتی ہے تو ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا اور معاشی استحکام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی مقررہ ہدف سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، جبکہ حکومت اس لیوی میں مزید اضافے پر بھی غور کر رہی ہے، جو آئندہ مالی پالیسیوں کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم اس کے عوام پر اثرات بھی زیر بحث ہیں۔
آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر سبسڈیز کم کرنے اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور مہنگائی میں کمی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، تاہم عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث معاشی خطرات اب بھی موجود ہیں، جس کے پیش نظر حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جائے گا اور اصلاحاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کی قسط کی منظوری پاکستان کیلئے ایک اہم معاشی سہارا ثابت ہو سکتی ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ملک اندرونی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نظام کی بہتری پر توجہ دے، کیونکہ بیرونی قرضے عارضی حل فراہم کرتے ہیں جبکہ پائیدار ترقی کیلئے مضبوط معاشی بنیاد ناگزیر ہے۔





















