لاہور میں تیار نایاب فلکیاتی کمپیوٹر لندن میں نیلامی کیلئے پیش، قیمت کروڑوں میں

یہ آلہ مغل امیر آقا افضل کیلئے بنایا گیا تھا

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)لاہور میں تیار کیا گیا 17ویں صدی کا ایک نایاب فلکیاتی آلہ، جسے سادہ الفاظ میں ’’سپر کمپیوٹر‘‘ بھی کہا جا رہا ہے، لندن میں نیلامی کیلئے پیش کر دیا گیا ہے اور اس کی قیمت کروڑوں روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ نادر اسطرلاب، جو ایک پیچیدہ سائنسی آلہ ہے، ماضی میں ہندوستان کے شہر جے پور کے شاہی خاندان کے نجی ذخیرے کا حصہ رہا، اور اب اسے معروف نیلامی گھر Sotheby’s کی لندن گیلری میں 24 سے 29 اپریل کے دوران نمائش اور فروخت کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسطرلاب ہے، جسے دو بھائیوں قائم محمد اور محمد مقیم نے مغل دور میں لاہور میں تیار کیا تھا، اور یہ آلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اس دور میں برصغیر خصوصاً لاہور سائنسی آلات کی تیاری کا ایک اہم مرکز تھا۔

تحقیق کے مطابق یہ آلہ مغل امیر آقا افضل کیلئے بنایا گیا تھا، جو شہنشاہ Jahangir اور Shah Jahan کے دور میں خدمات انجام دیتے رہے، اور یہ اسطرلاب ان کے شاہی ذخیرے کا حصہ رہا، جس کی تاریخی اہمیت اسے مزید قیمتی بناتی ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اسطرلاب ایک ہمہ جہت سائنسی آلہ تھا جس کے ذریعے سورج کے طلوع و غروب کے اوقات معلوم کیے جا سکتے تھے، عمارتوں کی اونچائی اور فاصلے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا، جبکہ اس کی مدد سے زائچے بھی تیار کیے جاتے تھے، اسی لیے اسے قدیم دور کا ’’کثیر المقاصد کمپیوٹر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس آلے کی نیلامی نہ صرف تاریخی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ صدیوں پہلے برصغیر میں سائنسی ترقی کس قدر اعلیٰ سطح پر تھی، اور ایسے نوادر آج بھی دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ ماضی کی سائنسی ایجادات آج کے جدید دور کی بنیاد ہیں، اور ان کی قدر و حفاظت عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین