پاکستان عوامی تحریک کا 37 واں یومِ تاسیس

پاکستان عوامی تحریک نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے مسائل کسی ایک فرد، حکومت یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل خرابی اس فرسودہ، استحصالی اور عوام دشمن نظام میں ہے جو دہائیوں سے غریب عوام کو انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے

تحریر: ڈاکٹر راجہ عابد اکبر الفت

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اگر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملک میں بے شمار سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں، اقتدار میں گئیں، اتحاد بنائے، مفاہمتیں کیں، نعرے بدلے، نظریات تبدیل کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے منشور تک بدل ڈالے۔ مگر ان تمام جماعتوں کے درمیان ایک حقیقت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان عوامی تحریک وہ واحد سیاسی و فکری جماعت ہے جو اپنے قیام 25 مئی 1989 سے لے کر آج تک اپنے بنیادی بیانیے، نظریے اور منشور پر ثابت قدم کھڑی ہے۔ 37 برس گزرنے کے باوجود اس جماعت نے اقتدار کی سیاست، مفاداتی اتحادوں، سیاسی سودا بازی اور جوڑ توڑ کے کلچر کو کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسے پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کا محور اقتدار، وزارتیں، مفادات اور سیاسی برتری رہا ہے، جبکہ پاکستان عوامی تحریک نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے مسائل کسی ایک فرد، حکومت یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل خرابی اس فرسودہ، استحصالی اور عوام دشمن نظام میں ہے جو دہائیوں سے غریب عوام کو انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ جماعت کے بانی و سرپرست ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے برسوں پہلے وہ بات کہی تھی جو آج پاکستان کا ہر باشعور شہری محسوس کررہا ہے کہ: “چہرے نہیں، نظام بدلو۔

بدلے گا نظام تو بدلے گا پاکستان۔یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک گہری فکری و تحقیقی سوچ کا نتیجہ تھا۔ قائدِ انقلاب نے برسوں کے مطالعے، عالمی سیاسی نظاموں کے تجزیے اور پاکستانی ریاستی ڈھانچے کی خامیوں کو سمجھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ انتخابی اور حکمرانی کا نظام چند خاندانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور طاقتور طبقات کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بارہا کہا:

“موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے سو بار بھی الیکشن کروا لیے جائیں، حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔” وقت نے ثابت کیا کہ اقتدار بدلنے کے باوجود عوام کے حالات نہیں بدلے۔ حکومتیں تبدیل ہوئیں، چہرے بدلے، نعرے بدلے، مگر مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، ناانصافی، قرضوں اور ادارہ جاتی بحرانوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہے، وہ دراصل اسی فرسودہ نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ 2012، 2013 اور 2014 میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے انتخابی اصلاحات، شفاف جمہوریت، حقیقی عوامی نمائندگی، آئین کی بالادستی اور ریاستی اداروں کی اصلاح کی جو باتیں کیں، اُس وقت بہت سے لوگوں نے انہیں سیاسی نعرے سمجھا، مگر آج وہ تمام خدشات اور تجزیے حقیقت بن چکے ہیں۔ ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام، معاشی تباہی، ادارہ جاتی کمزوری اور عوامی بے چینی کا شکار ہے۔

سب سے اہم اور قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے پاس پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک بڑی فالوورشپ اور منظم تنظیمی نیٹ ورک موجود ہے۔ اس کے باوجود جماعت نے کبھی انتشار، تشدد، نفرت یا افراتفری کی سیاست کو فروغ نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ امن، محبت، رواداری، بھائی چارے، برداشت اور فکری بیداری کا راستہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکثر جماعتیں اقتدار کے حصول کیلئے ہر قسم کی مفاہمت اور سمجھوتہ کرتی رہی ہیں، مگر پاکستان عوامی تحریک نے 37 سال کے طویل عرصے میں اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے نظریاتی سیاست کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت آج بھی اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہے کہ اس کی جدوجہد کسی فرد، خاندان یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف ہے جو عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔

قائدِ انقلاب ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ایک جامع قومی وژن بھی پیش کیا جس میں انتخابی اصلاحات، معاشی انصاف، عدالتی اصلاحات، میرٹ، تعلیم، صحت، مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام اور عوامی فلاح پر مبنی ریاستی ڈھانچے کی تجاویز شامل ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کا مفاد پرست اور کرپٹ سیاسی اشرافیہ پر مشتمل طبقہ ایسی قوتوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیتا جو واقعی نظام کی تبدیلی کی بات کریں۔ آج پاکستان کے باشعور عوام کیلئے لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ اگر ملک کو موجودہ بحرانوں، سیاسی عدم استحکام، معاشی غلامی اور ادارہ جاتی تباہی سے بچانا ہے تو صرف چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ظلم، استحصال، کرپشن اور طبقاتی مفادات پر مبنی نظام برقرار رہے گا، عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ 25 مئی 2026 کو پاکستان عوامی تحریک اپنے قیام کے 37 سال مکمل کررہی ہے۔ یہ یومِ تاسیس صرف ایک جماعت کی سالگرہ نہیں بلکہ نظریاتی استقامت، فکری جدوجہد اور نظام کی تبدیلی کے اس سفر کی علامت ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اب فیصلہ پاکستانی عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ موروثی اور مفاداتی سیاست کے اسی پرانے دائرے میں گھومتے رہنا چاہتے ہیں یا ایک ایسے نظام کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام دوست، منصفانہ اور فلاحی ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین