لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)Media Workers Organization Punjab کے زیرِ اہتمام میڈیا ورکرز کے حقوق کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت صدر ایم ڈبلیو او پنجاب نصیب علی تبسم نے کی۔
احتجاجی مظاہرے میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر میڈیا اداروں سے وابستہ کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے حقوق کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر میڈیا ورکرز آرگنائزیشن پنجاب نصیب علی تبسم نے کہا کہ میڈیا ورکرز پسِ پردہ رہ کر میڈیا اداروں کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا ورکرز کو بھی صحافیوں کی طرح پلاٹس، سفری سہولیات، انڈوومنٹ فنڈ اور دیگر مراعات فراہم کی جائیں۔
نصیب علی تبسم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی بیشتر سہولیات صرف صحافیوں تک محدود ہیں جبکہ میڈیا ورکرز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ورکرز کو بھی خصوصی مراعات اور ان کا جائز حق دیا جائے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
احتجاجی مظاہرے سے عمران مغل اور اصغر علی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز میڈیا انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں بھی دیگر صحافتی شعبوں کی طرح تمام بنیادی سہولیات اور حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کے پسِ منظر میں کام کرنے والے کارکن اکثر توجہ سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ اداروں کی عملی کارکردگی میں ان کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ کیمرہ مین، ایڈیٹرز، ٹیکنیکل اسٹاف، ڈرائیورز، پروڈکشن ورکرز اور دیگر میڈیا ملازمین میڈیا اداروں کی بنیاد تصور کیے جاتے ہیں، مگر انہیں وہ سہولیات اور تحفظ حاصل نہیں جو صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا ورکرز کیلئے ویلفیئر فنڈ، ہیلتھ انشورنس اور روزگار کے تحفظ جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین نے میڈیا ورکرز کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والے تمام افراد کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔
کئی افراد نے کہا کہ میڈیا کے پسِ پردہ کام کرنے والے کارکن بھی خطرناک اور مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
میڈیا امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کا اثر سب سے زیادہ نچلے درجے کے ملازمین پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا ورکرز کو بنیادی سہولیات اور ملازمت کا تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو مستقبل میں میڈیا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق میڈیا اداروں میں اصلاحات اور ویلفیئر پالیسیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔





















