پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کا سانحہ ماڈل ٹائون کے تناظر میں چشم کشا اظہار خیال

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر جانبدار تفتیش ہوئی تو ’’کُھرا‘‘ منہاج القرآن کی طرف جائے گا وہ تمام لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر غیر جانبدار جے آئی ٹی کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں یا پھر جھوٹ اور دروغ گوئی سے باز رہیں

مخالفین اور سانحہ ماڈل ٹائون کی قانونی جدوجہد کی تاریخ سے ناواقف یہ الزام لگاتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں ملوث افراد سزائوں سے اس لئے بچے ہوئے ہیں کہ اُن کے خلاف موثر قانونی جنگ نہیں لڑی جارہی،12ویں برسی کے موقع پر میں اس گمراہ کن تاثر کے خلاف دلیل سے بات کروں گا اور ایسے تمام افراد کو باور کروانا چاہوں گا کہ شہدائے ماڈل ٹائون کے انصاف کے معاملہ کا تعلق ہماری سیاست سے ہر گز نہیں ہے، یہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے۔17جون 2014ء کے دن کارکنان نہیں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے روحانی بیٹے اور بیٹیاں خون میں نہلائی گئیں، میں نے بہت سوچ سمجھ کر شہید کارکنان کے متعلق بیٹے اور بیٹیوں کا لفظ استعمال کیا ہے، ایک بیٹے اور بیٹی کی اپنے والد کے نزدیک کیا اہمیت ہوتی ہے بطور باپ میں اس سے اچھی طرح آگاہ ہوں، سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے ان شہید بیٹوں اور بیٹیوں کو انصاف دلوانے کے لئے پاکستان کے چوٹی کے نامور وکلاء اور قانونی چیمبرز کی قانونی خدمات لے رکھی ہیں میں وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ شاید میں اور بہت سارے احباب اپنے کسی قانونی معاملہ میں اُن وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور حصول انصاف کی اس جدوجہد میں کتنی فیسیں ادا ہو چکیں اور عدالتی اخراجات برداشت کئے جا چکے میں اس کا ذکر یہاں نہیں کروں گا ، قریبی لوگ انصاف کے لئے ہونے والے اخراجات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ میں بس اتنا کہوں گا کہ پاکستان میں انصاف کی جنگ لڑنا غریب لوگوں کے بس کی بات نہیں رہی۔

میں یہاں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مربیانہ کردار پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کروں گا کہ انہوں نے 2014ء کے اس سانحہ کے بعد یتیم ہونے والے بچوں کے سروں پر شفقت کا جو ہاتھ رکھا تھا وہ آج بھی قائم و دائم ہے حالانکہ وہ بچے نہ صرف جوان ہو کر اپنی تعلیم مکمل کر کے شادیاں بھی کر چکے ہیں اور عملی زندگی میں مصروف ہیں اس کے باوجود منہاج القرآن اور شیخ الاسلام کا دست شفقت ان کے سروں پر موجود ہے ۔ میاں یہاں یہ بتانا چاہوں گا کہ ان بچوں کے تعلیمی اخراجات ہوں، ان کی شادیاں ہوں یا ان کے لئے رہائش کے مسائل ہوں یاان کے روزگار کی فراہمی کے معاملات ہوں ہر معاملہ میں شیخ الاسلام نے ایک شفیق باپ والا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ شہداء کے ورثاء کی دیکھ بھال کے لئے باقاعدہ ایک ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو غم اور خوشی کے ہر موقع پر شہداء کے ورثاء کے شانہ بشانہ ہوتا ہے، اگر ایسی کوئی مثال ہے تو وہ ہمارے پاس لے کر آئے کہ کسی جماعت نے اس طرح کارکنان کے لئے انصاف کی جنگ لڑی ہو جیسی ہم لڑ رہے ہیں، بہرحال یہ ایک توفیق اور سعادت ہے، ہم ایک ایسے معاشرے میں سرخرو ہیں جہاں مائیں تحفظ اور وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے بیٹوں کے انصاف کے لئے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یا انہیں ہٹا دیا جاتا ہے، شہداء کے ورثاء کے اطمینان کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آج تک شہداء کے ورثاء میں سے کسی ایک کے لب پر بھی کوئی حرف شکایت نہیں آیا اور وہ اللہ کی رضا سمجھ کر صابر و شاکر ہیں اور اپنی قیادت کے شانہ بشانہ ثابت قدمی کے ساتھ حصول انصاف کی جنگ لڑرہے ہیں، شہداء کے ورثاء نے اگر استقامت اور ثابت قدمی کی مثال قائم کی ہے تو قیادت نے بھی باپ ہونے کا جو عویٰ کیا تھا اس کا حق ادا کیا ہے۔ نہ منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنان عام کارکنان ہیں اور نہ ہی یہاں کی قیادت کوئی عام اور روایتی قیادت ہے۔ محبت، اعتماد اور ایثار کا یہ رشتہ دو طرفہ ہے۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ انصاف میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ جب تک سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر درج نہیں ہورہی تھی اور غیر جانبدار تفتیش کروانے کا مطالبہ نہیں مانا جارہا تھا تب تک شہر شہر تحریک قصاص چل رہی تھی اور پھر 5دسمبر 2018ء کے دن سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے بسمہ امجد کی درخواست پر منہاج القرآن کی قیادت کو دلائل دینے کے لئے روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ محترم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب ہم نے غیر جانبدارانہ تفتیش کا آپ کا دیرینہ مطالبہ مان لیا ہے لہٰذا اب آپ احتجاج اور مظاہرہ کی بجائے اپنی توجہ کا مرکز قانونی چارہ جوئی اور متعلقہ فورمز کو بنائیں اور ان شاء اللہ آپ کے ساتھ اب انصاف ہو گا، یہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سب سے بڑے بنچ کی آبزرویشن تھی جس کے تحت تحریک منہاج القرآن اور اس کی قیادت نے قانونی فورمز کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور آج تک سپریم کورٹ میں کروائی گئی یقین دہانی کی پاسداری کررہی ہے، میں یہاں اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم ہونے والی جے آئی ٹی کی قانونی تاریخ پر مختصر سی معلومات مہیا کروں گا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 دسمبر 2018ء کے روز ایک حکم کے تحت سانحہ ماڈل ٹائون کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، یہ جے آئی ٹی اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم ہوئی، اس جے آئی ٹی نے 14 جنوری 2019ء کو اپنی تحقیقات کا آغاز کیا اور 20 مارچ 2019ء تک سانحہ سے متعلق تمام افراد کے بیانات قلمبند کئے، ان میں سانحہ کے تمام زخمیوں، چشم دید گواہان، شہداء کے لواحقین یہاں تک کہ ملزمان کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے ،ان ملزمان میں سابق وزیراعظم نوازشریف، موجودہ وزیراعظم شہباز شریف،رانا ثناء اللہ، ڈاکٹر توقیر شاہ، سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا اور دیگر کے بیانات شامل تھے۔ اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی ٹرائل کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی تیاری کررہی تھی کہ 22 مارچ 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ میں ملوث ملزمان کی درخواست پر جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور اُسے کام کرنے سے روک دیا، حیرت والی بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی کیس میں دونوں طرف کے وکلاء کی بحثیں مکمل ہو چکی ہیں، صرف فیصلہ سنانا باقی ہے مگر وہ فیصلہ پانچ سال سے زائد عرصہ بیت جانے کو ہے التواء کا شکار ہے، اب تاریخ بھی نہیں مل رہی جس کی وجہ سے انصاف کا عمل لٹکا ہوا ہے، ہم تاخیری رویے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں جا چکے ہیں جس نے لاہور ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دی کہ تین ماہ کے اندر ترجیحاً جے آئی ٹی کیس کا فیصلہ سنایا جائے، اب اس حکم کو بھی 5 سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے ، اب چونکہ یہ جے آئی ٹی کا کیس لاہور ہائیکورٹ کے فلور پر ہے اس کا فیصلہ آنے سے ہی انصاف کا عمل آگے بڑھے گا ، انصاف میں تاخیر میں منہاج القرآن کے وکلاء کا کوئی قصور نہیں ہے وہ ہر تاریخ پر باقاعدگی سے گواہان کے ہمراہ پیش ہورہے ہیں اور اس ضمن میں معزز عدلیہ سے بس استدعا ہی کی جا سکتی ہے اور وہ ہم تواتر کے ساتھ کررہے ہیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ آئے گی تو انصاف ٹریک پر آئے گا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر جانبدار تفتیش ہوئی تو ’’کُھرا‘‘ منہاج القرآن کی طرف جائے گا وہ تمام لوگ یا تو کسی کے ایماء پر رطب و یابس سے کام لیتے ہیں یا کسی جنونی تحریک کے تنخواہ دار ہیں یا پس منظر سے لاعلم ہیں، ایسے سب لوگ آئیں اور ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر غیر جانبدار جے آئی ٹی کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں یا پھر جھوٹ اور دروغ گوئی سے باز رہیں۔ جس دن اے ڈی خواجہ کی رپورٹ منظر پر آگئی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور ہم پھر ہر فیصلہ مانیں گے، میں بطور خاص اس بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ سانحہ ماڈل ٹائون پر بننے والی یہ واحد جے آئی ٹی ہے جس پر دونوں طرف کے افراد کا اعتماد ہے، دونوں طرف سے بیانات قلمبند کروائے گئے ہیں، پہلی جو جے آئی ٹی پنجاب حکومت نے بنائی تھی اس میں ہمارے لوگوں کو بیانات کے لئے طلب ہی نہیں کیاگیا تھا جو بیان دینے کا ارادہ کرتا تھا اس کے گھر پولیس پہنچ جاتی تھی اور ایسا خوف و ہراس پھیلایا گیا کہ چشم دید گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اصل حقائق بیان نہ کر سکیں لہٰذا ہماری لاہور ہائیکورٹ بارز، سپریم کورٹ بارز اور ضلع بھر کی تمام ڈسٹرکٹ بارز، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمات سب سے گزارش ہے کہ وہ جے آئی ٹی کیس میں مظلوموں کی آواز بنیں۔

میںنے 17جون 2014ء کے دن سانحہ ماڈل ٹائون کے اُس انسانیت سوز پولیس فورس کے ایکشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جس طرح انسانیت کی دھجیاں اڑائی گئیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، خواتین کے چہروں پر میڈیا کے کیمروں کے سامنے گولیاں برسائی گئیں، بوڑھوں، جوانوں ہر عمر کے افراد کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر مظلوموں پر انصاف کے دروازے بند کئے گئے ، ایف آئی آر درج کروانے پر بھی اس وقت کے آرمی چیف کی مدد لینا پڑی تو میں کہوں گا کہ ظلم کا راج دائمی نہیں ہوتا، ہر تاریک شب کا اختتام ایک روشن صبح پر ہوتا ہے، ہم نے تاریخ میں بڑے بڑے ظالم حکمران اور ظالم حکومتوں کے طور اطوار دیکھے اور پڑھے ہیں جن کا آج نام و نشان بھی نہیں ہے اور وہ ظالم حکمران آج ایک گالی ہیں، معاشرے انصاف کے ساتھ پروان چڑھتے اور قائم رہتے ہیں، ہمارا ایمان ہے کہ خون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔ قیامت کے روز اللہ کے حضور سب سے پہلا پیش ہونے والا مقدمہ خون ناحق کا ہوگا۔ شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثاء کو انصاف دلوانے کے لئے ہمارا جو عزم 17جون 2014ء کی شام کو تھا وہی عزم 17جون 2026ء کے روز بھی ہے۔ جولوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ منہاج القرآن کے کارکنان کی مزاحمت کی وجہ سے پولیس نے فائر کھولا تو وہ لوگ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا مطالعہ کریں انہیں سانحہ کے سارے پس منظر کا علم ہو جائے گا، جسٹس باقر نجفی کمیشن منہاج القرآن نے نہیں بلکہ اُس وقت کی قاتل حکومت کی درخواست پر بنا تھا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین