محدود اوقات میں کھانا کھانے سے بڑھاپے میں کون سی بڑی بیماری کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟

تحقیق میں زائد وزن یا موٹاپے کا شکار معمر خواتین کا جائزہ لیا گیا

نیویارک (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی ابتدائی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اگر روزانہ کھانے اور اسنیکس کو صرف آٹھ سے نو گھنٹے کے مخصوص وقت تک محدود رکھا جائے اور سونے سے کم از کم چار گھنٹے پہلے کھانا بند کر دیا جائے تو بڑھاپے میں دماغی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تحقیق میں زائد وزن یا موٹاپے کا شکار معمر خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ خواتین جنہوں نے مقررہ وقت کے اندر کھانا کھایا، ان کی ذہنی کارکردگی ان خواتین کے مقابلے میں بہتر رہی جو زیادہ طویل دورانیے تک کھانے کی عادت رکھتی تھیں۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک ابتدائی (پائلٹ) تحقیق ہے، اس لیے ان نتائج کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر مزید سائنسی مطالعات کی ضرورت ہوگی۔ تاہم اگر آئندہ تحقیقات بھی اسی سمت میں نتائج دیتی ہیں تو کھانے کے اوقات محدود رکھنا دماغی صحت کو بہتر بنانے کی ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکا کی رٹجرز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی غذائی ماہر پروفیسر سو شیپسز کے مطابق وزن میں کمی خود بھی عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کمزوری کی رفتار کو سست کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اگر کھانا روزانہ صرف آٹھ سے نو گھنٹے کے دوران کھایا جائے اور سونے سے چار گھنٹے پہلے کھانا بند کر دیا جائے تو اس سے اضافی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیمنشیا اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمر اور جینیاتی عوامل کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور وزن کو قابو میں رکھ کر ڈیمنشیا کے تقریباً نصف کیسز کو روکا یا مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ درمیانی عمر میں موٹاپا لاحق ہونے سے بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 30 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، اس لیے مناسب غذا اور صحت مند معمولات اختیار کرنا انتہائی اہم ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ تحقیق دماغی صحت اور غذائی عادات کے درمیان تعلق کو مزید اجاگر کرتی ہے، تاہم چونکہ یہ ابتدائی نوعیت کی تحقیق ہے، اس لیے اس کے نتائج کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ مستقبل میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تحقیقات ہی یہ واضح کریں گی کہ محدود وقت میں کھانا کھانے کی عادت واقعی ڈیمنشیا کے خطرے کو کس حد تک کم کر سکتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس تحقیق کو دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر صرف کھانے کے اوقات میں تبدیلی سے دماغی صحت بہتر ہو سکتی ہے تو یہ ایک آسان اور قابلِ عمل عادت ہے۔ تاہم کئی افراد نے مزید سائنسی شواہد سامنے آنے کا انتظار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ماہرین کی رائے

غذائیت اور دماغی صحت کے ماہرین کے مطابق محدود وقت میں کھانا کھانے کے ممکنہ فوائد پر تحقیق جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش، ذہنی سرگرمی اور وزن کو قابو میں رکھنا اب بھی دماغی صحت کے لیے بنیادی عوامل ہیں، جبکہ اس تحقیق کے نتائج کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

جدید تحقیق اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ صرف یہ نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں، بلکہ ہم کب کھاتے ہیں، یہ بھی ہماری صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی غذائی عادت کو اپنانے سے پہلے طبی ماہرین سے مشورہ کرنا بہتر ہے، خصوصاً اگر کسی کو ذیابیطس یا دیگر دائمی بیماریاں لاحق ہوں۔

میری رائے میں یہ تحقیق امید افزا ضرور ہے، لیکن اسے حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر صحت اجازت دے تو متوازن غذا، مناسب اوقات میں کھانا، باقاعدہ ورزش اور اچھی نیند کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا مجموعی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین