بابر اعظم نے ٹیسٹ کپتانی قبول کرنے کے لیے کیا شرط رکھی؟ نئی رپورٹ میں بڑا دعویٰ

سابق کپتان نے صرف ٹیسٹ ٹیم کی قیادت پر رضامندی نہیں دی، آل فارمیٹ کپتانی کی یقین دہانی مانگ لی

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے سے قبل ایک اہم شرط رکھی تھی کہ مستقبل میں انہیں پاکستان ٹیم کے تینوں فارمیٹس کی کپتانی بھی سونپی جائے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی ٹیم کے سلیکٹرز نے بابر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ اگر ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش رہی تو انہیں دوبارہ آل فارمیٹ کپتان بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کپتان کے تقرر سے قبل دو سلیکٹرز نے بابر اعظم سے خصوصی ملاقات کی، کیونکہ شان مسعود کی قیادت میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کپتانی کے حوالے سے محدود آپشنز موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق بابر اعظم ہمیشہ سے پاکستان کی تینوں فارمیٹس میں قیادت کے خواہاں رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے صرف ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی قبول کرنے پر فوری آمادگی ظاہر نہیں کی۔

یاد رہے کہ بابر اعظم نے 2023 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد تینوں فارمیٹس کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم جبکہ شاہین شاہ آفریدی کو محدود اوورز کی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بابر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ قیادت کی ذمہ داری ملتی ہے تو وہ اس کے لیے پراعتماد ہیں، ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور اب ان کی اولین ترجیح پاکستان کرکٹ ٹیم کو زیادہ سے زیادہ کامیابیاں دلانا ہوگی۔

تاہم اس تمام معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا وضاحت سامنے نہیں آئی، اس لیے مذکورہ دعوؤں کو فی الحال میڈیا رپورٹس اور ذرائع سے منسوب معلومات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق قومی ٹیم کی کپتانی سے متعلق خبریں ہمیشہ غیر معمولی توجہ حاصل کرتی ہیں، تاہم جب تک پاکستان کرکٹ بورڈ یا متعلقہ فریق باضابطہ اعلان نہ کرے، اس نوعیت کی اطلاعات کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر مستقبل میں بابر اعظم کو دوبارہ قیادت سونپی جاتی ہے تو یہ قومی ٹیم کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی ہوگی۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کے بعد شائقینِ کرکٹ کی آراء تقسیم دکھائی دیں۔ بعض صارفین نے بابر اعظم کو دوبارہ آل فارمیٹ کپتان بنانے کی حمایت کی، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ کپتانی کا فیصلہ صرف ٹیم کی کارکردگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی کپتان کی تقرری کا فیصلہ ٹیم کے نتائج، ڈریسنگ روم کے ماحول اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا رپورٹس اپنی جگہ، تاہم حتمی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی باضابطہ پالیسی اور اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔

پاکستان کرکٹ میں کپتانی ہمیشہ اہم اور حساس موضوع رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے سامنے آنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے پی سی بی کے سرکاری مؤقف کو ترجیح دی جائے تاکہ غیر ضروری قیاس آرائیوں سے بچا جا سکے۔

میری رائے میں اگرچہ یہ رپورٹ دلچسپ دعوے پیش کرتی ہے، لیکن جب تک پاکستان کرکٹ بورڈ یا بابر اعظم خود اس کی تصدیق نہ کریں، اسے محض میڈیا رپورٹس کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔ قومی ٹیم کی قیادت کا فیصلہ شفاف انداز میں اور ٹیم کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین