لاہور(16جون 2026)تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 12ویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے سانحہ ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست جلد نمٹانے کی باردگر استدعا کرتے ہیں ، جے آئی ٹی کی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں پیش ہوگی تو فیئر ٹرائل کا آئینی و قانونی تقاضا پورا ہوگا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اس سے پہلے بھی جے آئی ٹی کیس سے متعلق 3 ماہ کے اندر ترجیحاً کیس نمٹانے کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دے چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ 17جون 2014ء کے دن پولیس نے دن دہاڑے بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کر کے درجنوں کارکنان کو شہید و زخمی کیا،خوف و ہراس پھیلایا اور انصاف سے 12سال سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 دسمبر 2018ء کے ایک حکم کے تحت اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی قائم ہوئی، اس جے آئی ٹی نے 14 جنوری 2019ء کو اپنی تحقیقات کا آغاز کیا اور 20 مارچ 2019ء تک سانحہ سے متعلق تمام افراد کے بیانات قلمبند کئے، ان میں سانحہ کے تمام زخمیوں، چشم دید گواہان، شہداء کے لواحقین یہاں تک کہ ہمارے ملزمان کے بیانات بھی قلمبند ہوئے۔
اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی اپنی رپورٹ پیش کرنے کی تیاری میں تھی کہ 22 مارچ 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ میں ملوث ملزمان کی درخواست پر جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور اُسے کام کرنے سے روک دیا، حیرت والی بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی کیس میں دونوں طرف کے وکلاء کی بحثیں مکمل ہو چکی ہیں مگر تاحال فیصلہ نہیں سنایا گیا ، انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں بھی قرار دیا جا چکا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون محض ایک حادثہ نہیں بلکہ آپریشن میں شریک فورس کہیں سے کنٹرول ہورہی تھی اور حکم کے مطابق ہی آگے بڑھ رہی تھی اورانہوں نے وہی کیا جس کا انہیں حکم تھا، انہوں نے کہا کہ ہم بہترین وکلاء کی ٹیم، لاء چیمبرز سے مل کر حصول انصاف کے لئے قانونی جدوجہد کررہے ہیں ، ہم حصول انصاف کی اس جدوجہد سے پیچھے ہٹے اور نہ آخری سانس تک ہٹیں گے۔
سانحہ ماڈل ٹائون کا کیس آج بھی ہماری بھرپور دلچسپی اور سرپرستی کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5دسمبر 2018ء کے روز میں خود سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے پیش ہوا اور سانحہ سے متعلق دلائل دیتے ہوئے معزز لارجر بنچ سے غیر جانبدار تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی ، انہوں نے کہا کہ اس وقت کے معزز لارجر بنچ کے سربراہ نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا غیر جانبدار تفتیش کروانے کا دیرینہ مطالبہ مانا جارہا ہے لہٰذا اب احتجاج کی بجائے قانونی فورمز پر حصول انصاف کی جدوجہد پر توجہ مرکوز کی جائے، تب سے اب تک ہم سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کی اس آبزرویشن کا احترام کررہے ہیں، ہماری معزز عدلیہ سے درخواست ہے کہ جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کرنے دی جائے تاکہ فیئر ٹرائل کے آئینی و قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے روبرو بھی کہا تھا جسے آج پھر دہرا رہا ہوں کہ ہم صرف غیر جانبدار تحقیقات چاہتے ہیں جو فیصلہ بھی آئے گا اُسے قبول کریں گے اور جہاں قانون اجازت دے گا حصول انصاف کے لئے آگے بڑھیں گے۔ ہمارا پہلا مطالبہ غیر جانبدارانہ تفتیش ہے، انہوں نے کہا کہ اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی نے پہلی بار وہ تمام حقائق جمع کئے ہیں جو اس سے پہلے کسی یکطرفہ تفتیش اور یکطرفہ چالان میں شامل نہیں ہوئے تھے، انہوںنے کہاکہ 12 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں۔
انہوں نے شہدائے ماڈل ٹائون کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور شہداء کے ورثاء کے حصول انصاف کے لئے عزم، استقامت اور ثابت قدمی پر انہیں مبارکباد دی، انہوں نے کہا کہ یہ وہ جرأت مند، باضمیر لوگ ہیں جو ہر طرح کے خوف، لالچ، دھن ،دھونس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ شہداء کا بہنے والا یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، جو بھی اس ظلم اور ناانصافی میں شامل ہے اُس کاحساب ہو گا۔





















