خصوصی تحریر:محمد وسیم جوکھیو
زندگی میں بعض سفر صرف میلوں کی مسافت طے نہیں کرتے بلکہ انسان کے باطن میں بھی ایک نئی دنیا آباد کر جاتے ہیں۔ ایسے سفر انسان کی سوچ کو وسعت، احساس کو تازگی، کردار کو استحکام اور یادوں کو دوام عطا کرتے ہیں۔ میری زندگی میں مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا سالانہ تربیتی و تفریحی کیمپ 2026 بھی ایک ایسا ہی ناقابلِ فراموش سفر ثابت ہوا، جس نے قدرت کے حسین نظاروں، فکری تربیت، مضبوط رفاقت اور روحانی سکون کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ آج بھی جب ان لمحات کو یاد کرتا ہوں تو دل تشکر سے بھر جاتا ہے اور نگاہوں کے سامنے شمالی پاکستان کی دلکش وادیاں ایک بار پھر زندہ ہو اٹھتی ہیں۔

16 جولائی 2026 کی شام میں اپنے عزیز دوست یاسر کھوسو ایڈووکیٹ کے ہمراہ لاہور سے موٹروے کے ذریعے روانہ ہوا۔ راستے میں کچھ دیر کلر کہار کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم فیض آباد اسلام آباد پہنچے، جہاں ملک کے مختلف شہروں سے آنے والے سینکڑوں مصطفوی شاہین جمع ہونا شروع ہو چکے تھے۔ اگرچہ ہم سب مختلف علاقوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر ہمارے دل ایک ہی فکر، ایک ہی مقصد اور ایک ہی مشن کے لیے دھڑک رہے تھے۔ مختصر تعارفی نشست اور ضروری ہدایات کے بعد رات گئے ہمارا قافلہ شمالی پاکستان کی جانب روانہ ہوا۔ گاڑی میں ملی نغمے، خوشگوار گفتگو، قہقہے، باہمی تعارف اور ساتھیوں کی محبت نے سفر کی طوالت کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔
رات کی تاریکی جیسے ہی صبح کی پہلی کرنوں میں ڈھلنے لگی، ہماری گاڑی وادیٔ کاغان میں داخل ہو چکی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر نگاہ دوڑائی تو یوں محسوس ہوا جیسے قدرت نے اپنے حسن کا خزانہ اسی سرزمین پر نچھاور کر دیا ہو۔ بادلوں سے لپٹی فلک بوس چوٹیاں، سرسبز و شاداب وادیاں، پہاڑوں سے اترتے جھرنے اور ہر سو بکھرا سکون انسان کو اپنے خالق کی قدرت پر بے اختیار "سبحان اللہ” کہنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ دل شکرِ الٰہی سے لبریز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حسین مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی سعادت عطا کی۔
ہماری رہائش پارس ہوٹل میں تھی، جس کے ساتھ بہتا ہوا دریائے کنہار اس قیام کا سب سے دلکش منظر تھا۔ اگلی صبح جب میں بالکونی میں آیا تو سامنے نیلگوں پانی کی مسلسل روانی، ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے، خاموش پہاڑوں کی عظمت اور پرندوں کی سریلی آوازوں نے دل کو ایک ایسا سکون عطا کیا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میں کافی دیر تک خاموش کھڑا اس منظر کو دیکھتا رہا اور محسوس کرتا رہا کہ قدرت کے یہ حسین مظاہر انسان کو اپنے رب کی معرفت کے کتنے قریب لے جاتے ہیں۔

کیمپ کے پہلے روز آٹھ دوستوں پر مشتمل ہمارا گروپ ناشتے کے بعد شاران فاریسٹ کی جانب روانہ ہوا۔ فور بائی فور جیپوں کا سنسنی خیز سفر، بل کھاتے پہاڑی راستے، گھنے جنگلات اور خنک ہوائیں اس مہم کو مزید دلچسپ بنا رہے تھے۔ شاران کے گھنے درختوں کے درمیان چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فطرت اپنی خاموش زبان میں انسان کو صبر، استقامت اور سکون کا درس دے رہی ہو۔ بعد ازاں ہم ایک دشوار گزار پیدل راستہ طے کرتے ہوئے ہزاروں فٹ نیچے واقع شاران واٹر فال پہنچے۔ بلند پہاڑوں سے گرتا شفاف پانی، اس کی پھوار اور اردگرد کا دلکش ماحول قدرت کی عظمت کا ایسا شاہکار تھا جس نے دل و دماغ کو تازگی سے بھر دیا۔ واپسی کا مرحلہ نسبتاً مشکل تھا۔ مسلسل چڑھائی اور تھکن کے باعث کئی مرتبہ رکنا پڑا، مگر ساتھیوں کا حوصلہ، باہمی تعاون اور خوش مزاجی ہر دشواری کو آسان بناتے رہے۔ شام تک ہم ہوٹل واپس پہنچے، جہاں دن بھر کی یادیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے اگلے روز کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔
دوسرا دن میرے لیے اس پورے سفر کا سب سے یادگار دن ثابت ہوا۔ ہم سات دوست پارس ہوٹل سے روانہ ہو کر شوگران کے راستے فور بائی فور جیپوں میں سری پائے میڈوز کی طرف روانہ ہوئے۔ خطرناک مگر دلکش راستوں پر سفر کرتے ہوئے ایک طرف گہری کھائیاں اور دوسری طرف بادلوں کو چھوتے پہاڑ تھے۔ کہیں بادل ہمارے ساتھ ساتھ چلتے محسوس ہوتے، کہیں سرسبز چراگاہیں دل موہ لیتیں اور کہیں دور تک پھیلی وادیاں قدرت کے حسن کی ایسی تصویر پیش کرتیں جنہیں الفاظ میں قید کرنا ممکن نہیں۔ ہر موڑ ایک نئی حیرت، ہر منظر ایک نئی مسرت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نئی نشانی دکھا رہا تھا۔
سری پائے کی پُرفضا وادی میں منعقد ہونے والی فکری و تربیتی نشست اس پورے سفر کا سب سے قیمتی سرمایہ ثابت ہوئی۔ مقررہ مقام پر تمام دوست ایک دائرے کی صورت میں جمع ہوئے اور اجتماعی طور پر "اللہ ہو” کا ذکر شروع کیا۔ اس لمحے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے قدرت کی آغوش میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہو رہی ہوں۔ اس روح پرور ماحول میں مرکزی صدر شیخ فرحان عزیز اور چوہدری ضیاء الرحمٰن ضلج انقلابی نے نوجوانوں سے علم، کردار، تنظیمی نظم، قائدانہ صلاحیت، خدمتِ دین، خدمتِ وطن اور اخلاقِ حسنہ کے موضوعات پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی۔ ان کی باتوں نے میرے دل میں یہ احساس مزید پختہ کر دیا کہ انسان کی اصل عظمت اس کے کردار، اس کی فکر اور اس کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ اختتام پر تمام شرکاء نے مصطفوی معاشرے کے قیام، شعور کی بیداری، استحکامِ پاکستان اور خدمتِ انسانیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شام ڈھلے جب ہم واپس ہوٹل پہنچے تو کچھ دیر آرام کے بعد ایک خوبصورت محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی۔ مختلف شہروں سے آئے ہوئے دوستوں نے اپنی شاعری اور خیالات پیش کیے۔ فکری گفتگو، ادبی ذوق اور خوشگوار ماحول نے اس محفل کو بھی یادگار بنا دیا۔ رات گئے ہم اگلے دن کے سفر کے خواب آنکھوں میں سجائے آرام کرنے چلے گئے۔
تیسرے روز علی الصبح ناشتے سے قبل ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس سے رانا تجمل حسین نے نوجوانوں سے گفتگو کی۔ ان کی گفتگو نے ہمیں خدمت، اخلاص اور تنظیمی ذمہ داری کے نئے پہلوؤں سے روشناس کرایا۔ اس کے بعد ہم نے پارس ہوٹل کو الوداع کہا اور ان حسین یادوں کو دل میں سمیٹتے ہوئے کوائی واٹر فال کی جانب روانہ ہوئے۔ برفیلے پانی کی ٹھنڈی پھوار، سرسبز ماحول اور قدرت کی خاموش خوبصورتی نے دل میں یہ خواہش پیدا کر دی کہ کاش انسان اپنی زندگی کا کچھ حصہ ہمیشہ ایسے ہی قدرت کے قریب گزار سکے۔ وہاں سے ہمارا آخری پڑاؤ خان پور ڈیم تھا۔ نیلگوں پانی، خاموش پہاڑ اور پُرسکون فضا گویا انسان کو مراقبے کی کیفیت میں لے جا رہے تھے۔ میں دیر تک وہاں بیٹھا یہی سوچتا رہا کہ قدرت کے قریب گزارا گیا ہر لمحہ انسان کو اپنے خالق کے مزید قریب کر دیتا ہے۔
اسلام آباد واپسی کے سفر میں مسلسل انہی تین دنوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ محض ایک تفریحی کیمپ نہیں تھا بلکہ خود احتسابی، شخصیت سازی، فکری بیداری، تنظیمی تربیت، نظم و ضبط، اجتماعی شعور، مضبوط رفاقت اور خدمتِ دین کے جذبے کو پروان چڑھانے کا ایک مکمل سفر تھا۔ اس کیمپ نے نہ صرف مجھے پاکستان کے شمالی علاقوں کی بے مثال خوبصورتی سے روشناس کرایا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ جب نوجوان مثبت فکر، اعلیٰ کردار اور مضبوط تنظیمی شعور کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو وہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی کے علمبردار بن سکتے ہیں۔
اس سفر کی سب سے قیمتی یاد مختلف شہروں سے آئے ہوئے وہ ساتھی ہیں، جن سے شاید اس سے پہلے کبھی ملاقات نہ ہوئی تھی، مگر صرف تین دنوں میں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے برسوں کی رفاقت ہو۔ یہی مصطفوی فکر کا حسن ہے کہ وہ مختلف زبانوں، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اخوت، محبت اور ایک مشترکہ مقصد کے مضبوط رشتے میں جوڑ دیتی ہے۔
آج بھی جب دریائے کنہار کی مدھر روانی، شاران کے گھنے جنگلات، سری پائے کے بادلوں میں لپٹی چراگاہیں، کوائی واٹر فال کی ٹھنڈی پھوار اور خان پور ڈیم کی خاموش وسعتیں میری یادوں کے دریچے پر دستک دیتی ہیں تو دل بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔
میرے لیے یہ کیمپ محض ایک سیاحتی پروگرام نہیں بلکہ زندگی کی ایک ایسی درسگاہ تھا جہاں فطرت نے عاجزی سکھائی، پہاڑوں نے استقامت کا درس دیا، دریاؤں نے مسلسل جدوجہد کا پیغام دیا، آبشاروں نے پاکیزگی کا احساس جگایا اور مصطفوی فکر نے یہ یقین عطا کیا کہ ایک باشعور، باکردار، منظم اور باعمل نوجوان ہی دین، معاشرے اور وطن کا حقیقی سرمایہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پاکستان اسی طرح نوجوانوں کی فکری، اخلاقی، روحانی اور تنظیمی تربیت کا یہ مبارک سفر جاری رکھے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو علم، کردار، اخوت، خدمتِ انسانیت اور مصطفوی اقدار کا عملی نمونہ بن جائے۔























