اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں 29 جولائی سے 5 اگست تک مون سون بارشوں کے ایک نئے اور طاقتور سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کے خدشات ظاہر کر دیے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں 29 جولائی سے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی، جبکہ یکم اگست سے ایک مغربی ہوا کا سلسلہ بھی شدت اختیار کرے گا، جس کے باعث کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 29 جولائی سے 5 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔
اسی طرح جنوبی پنجاب، مشرقی و جنوبی بلوچستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں 31 جولائی سے 3 اگست کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں، جبکہ بعض مقامات پر شدید اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، ملتان، پشاور اور نوشہرہ سمیت متعدد شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
ادارے کے مطابق کشمیر، مری، گلیات، بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ہے، جبکہ مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تیز بارش، آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور بل بورڈز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود ہے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کو الرٹ رہنے، کسانوں کو موسمی صورتحال کے مطابق زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور سیاحوں و مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ مون سون اسپیل معمول سے زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور شہریوں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے چاہییں۔ گزشتہ برسوں کی طرح اگر ندی نالوں کی صفائی اور نکاسیٔ آب کا مؤثر انتظام نہ کیا گیا تو شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
عوامی رائے
موسمی پیشگوئی کے بعد مختلف علاقوں کے شہریوں نے سوشل میڈیا پر بارشوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ناقص نکاسیٔ آب کے باعث شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ کئی صارفین نے متعلقہ اداروں سے بروقت اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ موسمیات کے مطابق مون سون کے اس نئے سلسلے کے دوران نشیبی علاقوں، دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب رہنے والے افراد کو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ ان کے مطابق موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنا کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مون سون بارشیں جہاں گرمی کی شدت کم کرتی ہیں، وہیں مناسب انتظامات نہ ہونے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے بروقت اقدامات کریں اور شہری بھی غیر ضروری خطرات مول لینے سے گریز کریں۔
میری رائے میں شدید بارشوں کے دوران احتیاط ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خصوصاً پہاڑی علاقوں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں، جبکہ انتظامیہ کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریاں مکمل رکھنی چاہییں۔





















